بنیاد پرست ضلعی سطح پر مضبوط مقام بنانے کوشاں
حیدرآباد /4 مئی ( سیاست نیوز ) مسلم شرعی مسائل پر عام مسلمانوں کی خاموشی کو ہندو واہنی مسلمانوں کی رضامندی ظاہر کرنے کی کوشش میں جٹ گئی ہے اور عدالتی فیصلوں کی مخالفت کرنے والوں کو بنیاد پرست قرار دینے اور ان کے خلاف سماج میں ماحول خراب کرنے کی بھرپور کوشش جارہی ہے ۔ اس بات کا انداز ہندو واہنی کے صدر تلنگانہ و آندھراپردیش مسٹر بی جناردھن ریڈی کے ایک تازہ بیان سے ہوتا ہے ۔ تاریخ اور تاریخ سے واقفیت کے نام پر ہندو واہنی ایک خصوصی پروگرام کرلیا ہے ۔ گذشتہ روز اپنے بیان میں جناردھن ریڈی نے کہا کہ مسلمان قانون اور دستور کے احترام کی بات کو کرتے ہیں لیکن عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے تیار نہیں ۔ صرف چند بنیاد پرست مسلمانوں کے علاوہ مسلمانوں کی اکثریت کی خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں پر صرف بنیاد پرست طاقتوں کو اعتراض پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے شاہ بانو مقدمہ کے علاوہ حالیہ دنوں حجاب کے تعلق سے دئے گئے عدالت کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مسلم بنیاد پرستوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی حال کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ انہوں نے زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں سے ہندو آبادی کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا ہے اور اب بنیاد پرست طاقتیں بودھن نظام آباد ، مدھول ، عادل آباد ، نرمل اور بھینسہ کے علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے کوشش کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں روہنگیا کے باشندوں نے جو آدھار کارڈ اور پاسپورٹ کو حاصل کیا اور راشن حاصل کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ایک قبائیلی ( ٹرائیل ) لڑکی نے شادی کے بعد جس طرح اسلام کو قبول کرلیا یہ تمام تر نتائج بنیاد پرستوں کی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔ ع