تلگو ریاست میں بیک وقت پارلیمانی و اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کو مستحکم کرنے کانگریس کی سرگرمیاں
حیدرآباد 15جنوری ( سیاست نیوز ) آندھراپردیش کانگریس صدر ردرا راجو نے آج اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردیا۔انہوں نے اپنا مکتوب استعفی پارٹی صدرملکارجن کھرگے کو روانہ کردیا ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ وائی ایس شرمیلا کو جنہوں نے حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ، آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کا صدربنایاجائے گاجہاں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھرریڈی کی دختر اور موجودہ چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی کی بہن شرمیلا نے اپنی پارٹی وائی ایس آرتلنگانہ کو حال میں کانگریس میں ضم کردیا تھا اور حود بھی کانگریس میں شامل ہوگئی تھیں۔ اس طرح اب ردرا راجو کے استعفی کے بعد ان کے صدر آندھراپردیش کانگریس بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ردرا راجو، راج شیکھرریڈی کے قریبی رفقا میں شمار کئے جاتے تھے ۔انہوں نے 2005 تا 2007 ہیلت انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ چیرمین ، 2007سے 2011تک ایم ایل سی، 2012میں اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مبصر کے طورپر کام کیا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے صدرکا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اے پی کانگریس جنرل سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں۔ان کو 2022 میں اے پی کانگریس کا صدربنایاگیا تھا۔شرمیلا 2021میں سیاست میں سرگرم ہوگئی تھیں اور انہوں نے وائی ایس آر تلنگانہ کا قیام عمل میں لایاتھا۔انہوں نے حال میں تلنگانہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے انتخابات میں حصہ لینے سے کانگریس کے امکانات پر اثر پڑیگا اور اس سے ووٹ تقسیم ہوں گے ۔سمجھاجاتا ہے کہ ان کی پارٹی کے کانگریس میں انضمام میں کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے اہم رول اداکیا ہے ۔ شرمیلانے چند دن قبل نئی دہلی میں کانگریس دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ہائی کمان ان کو جو بھی ذمہ داری دے گی وہ اسے قبول کریں گے ۔سمجھاجاتا ہے کہ آندھرا پردیش میںپارلیمنٹ اور اسمبلی کے بیک وقت انتخابات کے پیش نظر شرمیلا کو کانگریس کی ذمہ داری جائے گی۔2014میں متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آندھراپردیش میں کانگریس کو شدید نقصان ہوا تھا اور اس کو 2014 اور 2019لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں ایک بھی اسمبلی و لوک سبھا کی نشست پر کامیابی نہیں ملی تھی۔سیاسی ماہرین کے مطابق کانگریس، شرمیلا کے ذریعہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔