تیرے دم سے ہے رنگ و بوئے جہاں
تیرا کس کس پہ التفات نہیں
صدر جمہوریہ ہند شریمتی دروپدی مرمو نے کل مغربی بنگال کا دورہ کیا ۔ وہ ایک پروگرام میں شرکت کیلئے آئی تھیں۔ تاہم اس دورہ پروگرام کی وجہ سے ایک بڑا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور بی جے پی و ترنمول کانگریس کے مابین لفظی تکرار بھی شروع ہوگئی ہے ۔ بی جے پی نے موقع کو ضائع نہ کرتے ہوئے بنگال حکومت پر تنقید کی ہے اور ترنمول کانگریس نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر سیاست کی جا رہی ہے جو نہیں کی جانی چاہئے ۔ کہا جا رہا ہے کہ شریمتی دروپدی مرمو کے دورہ مغربی بنگال کے وقت جو پروگرام جس مقام پر ہونا تھا اس کو اچانک اور کچھ ہی دیر قبل تبدیل کردیا گیا ۔ اس وجہ سے پروگرام میں عو امی شراکت بہت کم رہی ۔ اس کے علاوہ خود صدر جمہوریہ ہند نے شکایت کی کہ پروٹوکول کے مطابق جب وہ بنگال کے دورہ پر آئیں تو ان کا استقبال کرنے کیلئے ائرپورٹ پر نہ چیف منسٹر ممتابنرجی موجود رہیں اور ننہ ہی کسی وزیر نے ان کا استقبال کیا ۔ اس کے علاوہ سرکاری طور پر ان کا خیرمقدم نہیں کیا گیا ۔ یہ شکایت کسی اور نہ نہیں بلکہ خود صدر جمہوریہ شریمتی مرمو نے کی اور انہوں نے تبصرہ کیا تھا کہ ممتابنرجی ان کی بہن ہیں اور شائد وہ ان سے ناراض ہیں۔ بی جے پی نے موقع کو گنوانے سے گریز کرتے ہوئے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور ممتابنرجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ ہند کو پروٹوکول نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان کا شایان شان استقبال کیا گیا ۔ ان کے پروگرام کے مقام کو تبدیل کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی گئی ۔ اب تو یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ جو واش روم صدر جمہوریہ ہند کیلئے مختص کیا گیا تھا اس میں پانی کی سہولت تک دستیاب نہیں تھی اور جس راستہ سے صدر جمہوریہ ہند کو لیجایا گیا تھا اس پر کئی مقامات پر کچرے کے انبار پائے گئے تھے ۔ بی جے پی کے ان دعووں اور الزامات کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ریاست کے چیف سکریٹری سے جواب طلب کیا گیا ہے اور یہ پوچھا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ ہند کی آمد اور واپسی کے وقت ائرپورٹ پر چیف منسٹر ‘ سکریٹری اور ڈی جی پی خود کیوںموجود نہیں رہے تھے ۔
صدر جمہوریہ ہند کا جو عہدہ ہے وہ ملک کا سب سے اعلی اور جلیل القدر عہدہ ہے ۔ اس عہدہ کو سیاسی داؤ پیچ کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ صدر جمہوریہ ہند ملک کی سربراہ ہیں اور وہ ملک کے جس حصے میں دورہ کریں وہاںان کے شایان شان انتظامات کئے جانے چاہئیں اور ان کا پرتپاک استقبال کیا جانا چاہئے۔ ریاست میں چاہے جس کسی بھی جماعت کی حکومت ہو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہوئے صدر جمہوریہ کا استقبال کیا جانا چاہئے ۔ ان کے دورہ کیلئے مثالی اور شاندار انتظامات کئے جانے چاہئیں۔ اس سلسلہ میں وزارت داخلہ کو ریاستی حکام کے ساتھ رابطوں میںرہتے ہوئے تال میال کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاہم اس بار شریمتی دروپدی مرمو کے دورہ مغربی بنگال کے تعلق سے جو ناقص انتظامات کی شکایت کی گئی ہے وہ افسوسناک کہی جاسکتی ہے ۔ صدر جمہوریہ کے دورہ کے موقع پر عہدیداروں کو پوری چوکسی اور مستعدی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت اور چیف سکریٹری سے جو جواب طلب کیا ہے اس میں تمام امور کی وضاحت کی جانی چاہئے اور تمام سوالات کے جواب تسلی بخش انداز میں دئے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ جو عہدیدار انتظامات کے ذمہ دار تھے اور انہوں نے اپنی ذمہ داری ٹھیک ڈھنگ سے نہیں نبھائی ان کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہونی چاہئے ۔
تاہم جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو اسے اس مسئلہ پر سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔صدر جمہوریہ کا عہدہ سیاسی داؤ پیچ کا حصہ نہیں بننا چاہئے ۔ جو انتظامات نہیں کئے گئے اور جو لاپرواہی کی گئی تھی اس پر وزارت داخلہ کی جانب سے جواب طلب کیا جا رہا ہے ۔ بنگال کے متعلقہ عہدیدار اس تعلق سے جواب دینگے اور جہاں کہیںکوئی کوتاہی ہوئی ہو اس کی نشاندہی کرکے کارروائی بھی ضرور کی جائے گی ۔ سیاست کرتے ہوئے اس معاملہ کو طول دینے یا ہوا دینے سے گریز کرنا چاہئے ۔ سیاست کیلئے کئی مسائل اور ہوسکتے ہیں ۔ صدر جمہوریہ ہند کے دورہ کو اس میں گھسیٹنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔