ہندوستان میں 2709 کھلاڑی ، چین ، روس اور جرمنی بھی شاہی کھیل کے دلدادہ
حیدرآباد ۔24 ۔ جون (سیاست نیوز) شطرنج کے کھلاڑی کا محاورہ صرف شطرنج کے گیم تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاست اور دیگر شعبہ جات میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ شطرنج (Chess) چونکہ ایک ذہنی مشقت کا کھیل ہے اور اس میں فتح و شکست کا دارومدار ذہنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔شطرنج کے کھیل کو شاہی کھیل بھی کہا جاتاہے جو راجہ مہاراجہ کا پسندیدہ کھیل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس گیم کے عالمی مقابلے میں شامل ہونے والے کھلاڑی کئی گھنٹوں تک بلکہ بسا اوقات دو یا تین دن تک گیم میں مصروف رہتے ہیں۔ ذہنی صلاحیت سے متعلق اس کھیل میں کھلاڑیوں کے اعتبار سے امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے۔ ویسے بھی امریکہ ذہنی طور پر دنیا بھر میں اپنی سبقت کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیشہ شطرنج کے کھیل میں مصروف رہتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کے ٹاپ 5 ممالک میں شطرنج کے کھلاڑ یوں کی تعداد کے اعتبار سے امریکہ میں 2724 کھلاڑی درج کئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان 2709 کھلاڑیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ چیس فیڈریشن کے استحکام کے معاملہ میں امریکہ اور ہندوستان کے بعد چین کا نمبر آتا ہے ، جہاں شطرنج کے کھلاڑیوں کی تعداد 2667 درج کی گئی ۔ روس میں 2642 اور جرمنی 2637 شطرنج کے کھلاڑی ہیں۔ عالمی سطح کے چیس کھلاڑیوں میں ہندوستان کی شمولیت سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلہ ملک میں ذہنی صلاحیت کے اس کھیل پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔1/k/m/b