شعبہ فن خطاطی ،ادارہ ادبیات اردو کیلئے باعث نیک نامی : جناب زاہد علی خاں

   

شعبہ کی گولڈن جوبلی تقریب کے ضمن میں طلبہ کے فن پاروں کی نمائش ، پروفیسر ایس اے شکور اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : فن خطاطی نے اردو رسم الخط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور اردو رسم الخط جاننے والوں میں فن خطاطی کے تئیں شوق بھی پیدا ہوا اور جہاں تک ادارہ ادبیات اردو کا سوال ہے اس ادارہ نے 1930 میں اپنے قیام سے ہی نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی مختلف کورسیس شروع کئے اور کامیابی سے چلائے جو اردو سیکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ اس ادارہ کا قیام یقینا اس کے بانی ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور مرحوم کا اردو والوں پر ایک احسان ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ادارہ ادبیات کے شعبہ فن خطاطی کی گولڈن جوبلی تقاریب کے ضمن میں منعقدہ طلباء و طالبات کے فن پاروں کی نمائش کے اختتام پر سکریٹری ادارہ ادبیات اردو پروفیسر ایس اے شکور سے بات چیت میں کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فن خطاطی کا شعبہ ادارہ ادبیات اردو کی نیک نامی میں اضافہ کا باعث بنا ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ 1938 میں ادارہ ادبیات اردو پنجہ گٹہ میں شعبہ خطاطی قائم کیا گیا تھا ساتھ ہی شعبہ امتحانات کا قیام بھی عمل میں آیا تھا ۔ سب رس کی اشاعت بھی شروع کی گئی تھی ۔ آپ کو بتادیں کہ 1974 میں شعبہ خطاطی کو ترقی اردو بورڈ کے تحت چلایا گیا ۔ فی الوقت یہ شعبہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ بہر حال ادارہ ابیات اردو کے شعبہ خطاطی کے طلباء و طالبات نے جو فن پارہ تیار کئے تھے ۔ ان کی نمائش کی یہ اختتامی تقریب تھی ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں اور دوسرے مہمانوں کے ہاتھوں طلبہ میں اسنادات اور انعامات کی تقسیم عمل میں آئی ۔ اس پر اثر تقریب میں آفرین غزالہ نامی ایک طالبہ تمام کی توجہ کا مرکز بنی رہی ۔ اس طالبہ نے 2 سال 8 ماہ میں قرآن مجید لکھی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے اس طالبہ کا تحریر کردہ قرآن مجید کا نسخہ پرنٹ کروانے کا اعلان کیا ۔ اختتامی تقریب میں بیگم ڈاکٹر محی الدین قادری زور مرحوم تہنیت النساء بیگم کے نام سے دس طلباء وطالبات میں میڈلس بھی تقسیم کئے گئے جب کہ چیف ایڈیٹر روزنامہ رہنمائے دکن جناب عمر دراز خان کی اہلیہ محترمہ نسیم سلطانہ نے 9 طلباء وطالبات کو نقد انعامات عطا کئے ۔ معتمد عمومی ادارہ ادبیات اردو پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے خطاب میں کہا کہ 50 برسوں میں زائد 11 ہزار طلباء وطالبات نے فن خطاطی کی تربیت حاصل کی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس ادارہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے اٹلی ، ترکی ، اردن ، عراق ، ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں میں منعقدہ خطاطی کی نہ صرف نمائشوں بلکہ مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات و اعزازات بھی حاصل کئے ۔ انہوں نے اس ضمن میں جناب عبدالغفار استاذ خطاط کی محنت و کاوشوں کی ستائش کی ۔ واضح رہے کہ ادارہ ابیات اردو میں دو سالہ فنکشنل عربی ڈپلوما بھی چلایا جارہا ہے ۔ پروفیسر شکور نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ خطاطی نصاب بھی تیار کیا گیا ہے اور حکومت تلنگانہ اس نصاب کو اپنے اسکولی نصاب میں شامل کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ 19 روز تک جاری نمائش میں 2022 تا 2024 بیاچس کے طلبہ کے تیار کردہ فن خطاطی کے فن پاروں کی نمائش کی گئی جس کا زائد از 7000 افراد نے مشاہدہ کیا ۔ اس یادگار تقریب میں شریک معتمد ادارہ ادبیات اردو جناب رفیع الدین قادری ، معزز رکن جناب افتخار حسین ، پروفیسر اشرف رفیع ، سید محی الدین قادری موجود تھے اور خطاب بھی کیا ۔ جناب جعفر جری نے کارروائی چلائی اور آخر میں شکریہ بھی ادا کیا ۔۔