حیدرآبادی نژاد امریکی ڈاکٹر میر ممتاز علی کی کامیاب نمائندگی
… محمد ریاض احمد …
یہ کہانی امریکہ کے شمالی کیرولینا میں مقیم حیدرآبادی نژاد ایک مسلم امریکی ڈاکٹر اور ان کے دو ڈاکٹر بیٹوں کی ہے جنہوں نے اس علاقہ میں جو بائبل پٹی کے نام سے مشہور ہے جہاں عیسائی تنظیموں کو غیرمعمولی غلبہ حاصل ہے۔ ایک نہیں بلکہ دو مساجد تعمیر کروائیں جس کے باعث ان مساجد کے قرب و جوار میں رہنے والے مسلمانوں کو خاص طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی کی سہولت حاصل ہوگئی۔ تعطیل کا دن تھا، عام طور پر لوگ چھٹی کے دن گھروں پر آرام کرتے ہیں، یا پھر سیر و تفریح کیلئے بڑے اہتمام سے نکل پڑتے ہیں لیکن یہ باپ بیٹے ایک ایسے نیک مقصد کو لے کر اپنے گھر سے نکلے تھے جس کا اجرا اللہ عزوجل نے بے حساب رکھا ہے۔ دونوں دراصل علاقہ رالے میس جو سلیما سے 33 کیلومیٹر دور ہے، مسجد کی تعمیر کیلئے ایک اراضی کی تلاش کررہے تھے۔ دونوں گاڑی میں سوار ایسی جگہ دیکھ رہے تھے جہاں مسجد تعمیر کی جاسکے۔ دوران گفتگو اچانک بیٹے نے کہا: ’’بابا دیکھئے وہ مقام جہاں سلون ہے، اگر وہ جگہ سلون کا مالک ہمیں فروخت کرتا ہے تو ہم وہاں ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرسکتے ہیں۔ اپنے نورِ نظر کی یہ بات سن کر باپ نے اپنے بیٹے کو اس جانب اپنی گاڑی آگے بڑھانے کیلئے کہا اور پھر اللہ عزوجل نے ان دونوں کی خواہش پوری کردی۔ سلون کے مالک نے بتایا کہ وہ سلون فروخت کررہا ہے، جس کے ساتھ ہی دونوں نے اس جگہ کا سودا پکا کرلیا اور آج وہاں ایک خوبصورت ’’مسجد نورالمحمدہ‘‘ قائم ہے جس میں نماز جمعہ کے موقع پر 30 تا 50 مصلی قریبی علاقوں سے آتے ہیں۔ یہ مسجد صرف 250 مربع گز رقبہ پر محیط ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہم ڈاکٹر میر ممتاز علی ایم ڈی، ایف اے سی پی، ایف سی سی پی اور ان کے بڑے فرزند ڈاکٹر میر عمر علی کی بات کررہے ہیں۔ تین سال قبل ڈاکٹر میر عمر علی نے یہ اراضی خرید کر وہاں مسجد تعمیر کروائی وہ ایم بی بی ایس ایم ڈی ایس اور امراض سینہ کے علاج میں غیرمعمولی مہارت رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی عظیم دینی درس گاہوں میں سے ایک جامعہ نظامیہ کے بھی فارغ التحصیل ہیں اور اس مسجد میں ڈاکٹر میر عمر علی خطبہ بھی دیتے ہیں۔ جہاں تک ڈاکٹر میر ممتاز علی کا سوال ہے، ان کا شمار امریکہ کے چنندہ Pulmonologist ماہر امراض سینہ میں ہوتا ہے، وہ اپنے اخلاق و کردار حیدرآبادی محبت و مروت اور شریعت کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ مہارت ، دیانت دارانہ اور جذبہ خدمت خلق کے باعث عوام میں کافی مقبول ہیں۔ اللہ عز و جل نے انہیں کئی ایک اعزازات سے نوازا ہے اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے دل میں دینی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ اب تک انہوں نے تین کتابوں کی تصنیف کی ہے یا انہیں مرتب کیا ہے جن میں Friday Sermons (خطبات ِجمعہ) اس کتاب کو مع انگریزی ترجمہ پیش کیا گیا ہے)، اہل سنت و الجماعت کے عقائد و معمولات، قرآن مجید اور حدیث شریف کی روشنی میں Faith and Practices of Ahle Sunnatwal Jamaat in the Light of Quraan and Hadeeth اور مسئلہ روہت ہلال: قرآن و حدیث کی روشنی میں‘‘ شامل ہیں، ان تمام کتب کو ماشاء اللہ علمی حلقوں میں کافی پسند کیا گیا۔ ڈاکٹر ممتاز بحیثیت ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ جو دینی خدمات بھی انجام دیئے ہیں۔ ان میں ان کے دونوں فرزندان ڈاکٹر میر عمر علی، ایم بی بی ایس، ایم ڈی، ماہر امراض سینہ اور ڈاکٹر میر مصطفی علی ایم بی بی ایس ایم ڈی بھی شامل رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میر ممتاز علی نے شمالی کیرولینا کے علاقہ سلیما (Salema) میں سال 2005ء کے دوران دیڑھ ایکڑ اراضی خرید کر مسجد نورالمصطفیٰ تعمیر کروائی اور باضابطہ وہاں جامعہ نظامیہ اور جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل عالم و فاضل کو امام مقرر کیا ہے۔ اراضی پر دراصل کسی عیسائی خاتون کا ایک بہت بڑا گھر تھا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر میر ممتاز علی میر سجاد بھی مرحوم ایچ سی ایس گولڈ میڈلسٹ ریٹائرڈ شریک معتمد محکمہ مالیہ سیدہ بانو صاحبہ مرحومہ کے فرزند اور فخر ملت مولوی عبدالواحد اویسی کے چھوٹے داماد ہیں۔ انہیں کا نام ٹریڈ مارک ٹاپ ڈاکٹرس آف امریکہ 2018ء آنرس ایڈیشن میں بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی بھی ڈاکٹر کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ یہ اعزاز ڈاکٹر میر ممتاز علی کو صحت کے شعبہ میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت، مریضوں کے ساتھ حسن سلوک، خوشگوار تعلقات، غیرمعمولی ڈسپلین، دیانت داریت سچائی، طلبہ اور رفقاء کے ساتھ شفقت اور عزت و احترام کیلئے عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر میر ممتاز علی کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے شمالی کیرولینا میں وہ کر دکھایا جو ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ ان کی مسلسل نمائندگی کے باعث سلیما میں مسجد نورالمصطفیٰ (جامع مسجد مسلم کمیونٹی سنٹر اینڈ ویلفیر آرگنائزیشن آف جانسٹن کاؤنٹی) کے عقب میں قبرستان کیلئے اراضی مختص کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس اراضی پر 500 قبور کی گنجائش ہے۔ وہاں قبرستان کی سہولت نہیں تھی۔ مسلم قبرستان کے ضمن میں 12 اکتوبر 2019ء کو ایک تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں شہر چیرل الیور (Cheryl Oliver) کے بشمول زائد از 50 اہم شخصیتوں نے شرکت کی۔ بعد میں خاتون شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ ، ڈاکٹر میر ممتاز علی کے زیرعلاج رہیں اور وہ ان کے اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت سے کافی متاثر ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر میر ممتاز علی اور ان کے فرزند کی خلوص نیت کو اللہ عزوجل نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس بارے میں وہ بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجالاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں اللہ انہیں ان کے اِرادوں میں کامیاب کررہے ہیں۔