بی جے پی کی نیند حرام ، حکومت کی خاموشی ، اعداد و شمار کو کسانوں کی آمدنی تک محدود رکھنے کی کوشش
حیدرآباد۔یکم۔اکٹوبر(سیاست نیوز) شمالی ہند کی ریاستوں بالخصوص ریاست اترپردیش‘ بہار ‘ جھارکھنڈ ‘ راجستھان‘ اترکھنڈ‘ مدھیہ پردیش کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں ذات اور طبقہ کی بنیاد پر مردم شماری کے مطالبہ میں پیدا ہونے والی شدت نے جہاں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیندیں اڑادی ہیں وہیں گذشتہ دنوں ملک کی دیہی آبادی میں کسانوں اور ان کے طبقہ کے علاوہ ان کی آمدنی پر کروائے گئے سروے کے دوران جو انکشافات ہوئے ہیں اس پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے ایسا لگ رہا ہے کہ مرکزی حکومت ان اعداد و شمار کو محض کسانوں کی آمدنی تک محدود رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ مرکزی حکومت کی وزارت اقتصادیات کی جانب سے کروائے گئے دیہی عوام میں کسانوں کا فیصد ان کی آمدنی اورا ن کے طبقہ کی تفصیلات حاصل کی گئی ہیں اور اس سروے کے دوران مجموعی اعتبار سے پہلے مرحلہ میں 58ہزار سے زائد دیہی خاندانوں اور دوسرے مرحلہ میں 56ہزار سے زائد دیہی خاندانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد خاندانوں کے اس سروے میں طبقہ کے متعلق ہونے والے انکشافات پر حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے کیونکہ ہندستان میں دلت‘ او بی سی ‘ قبائیلی آبادی جو محفوظ زمرہ میںشمار کی جاتی ہے اور پسماندہ طبقات میں ان کا شمار ہوتا ہے اگر ان ایک لاکھ سے زیادہ خاندانوں کے سروے سے ان کا اندازہ لگایا جائے تو ان کی تعداد 78.3 فیصد ہے جبکہ مابقی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی محض21.7فیصدہے۔ حکومت کی جانب سے کروائے گئے اس سروے میں محض 7ریاستوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں تلنگانہ ‘ چھتیس گڑھ‘ اترپردیش ‘ بہار‘ کرناٹک ‘ تمل ناڈ اور کیرالہ شامل ہیں اور ان 7ریاستوں میں کروائے گئے سروے کی رپورٹ کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو دیہی علاقوں میں رہنے والے کسانوں اور ان کے طبقات و پسماندگی نے حکومت کی نیندیں حرام کردی ہیں کیونکہ طبقات کے اساس پر مردم شماری کے مطالبہ کو نظرانداز کرنے والی حکومت نے رپورٹ میں طبقہ واری آبادی کا جائزہ لیا ہے ۔ ملک میں او بی سی کو مجموعی اعتبار سے 27 فیصد تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ اس سروے کے اعتبار سے دیہی علاقوں میں کسانوں کی تعداد جو او بی سی طبقات سے تعلق رکھتی ہے اس کافیصد44.4 ہے جبکہ دلتوں کو 15 فیصد تحفظات فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ م