بی جے پی کے ذمہ دار قائدین جو دستوری عہدوں پر فائز ہیں وہ بھی اب کھلے عام فرقہ واریت کا مظاہرہ کرنے میںایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویسے تو بی جے پی تقریبا تمام ہی قائدین اپنی اپنی سطح پر فرقہ پرستی کو فروغ دیتے ہوئے عوامی زندگی میںترقی کرنا چاہتے ہیں اور کئی لوگ اس کامیاب تجربہ کی وجہ سے ترقی کی منزلیں طئے بھی کرچکے ہیں۔ تاہم پہلے دستوری عہدوں پر فائز افراد اس معاملے میں احتیاط سے کام لیا کرتے تھے ۔ بلکہ یہ جاسکتا تھا کہ یہ لوگ اپنے چہروں پر نقاب لگائے ہوا کرتے تھے تاہم اب انہیں اس نقاب کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی ہے اور وہ سب اپنے اصل چہرے کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے قائدین میں سر فہرست اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ ہیں۔ وہ انتہائی زہریلے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لڑکیوں کی عصمت لوٹنے اور قبروں سے نکال کر بھی بے حرمتی کرنے تک کے غیر انسانی ریمارکس کئے تھے ۔ اب انہوںنے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’’ ابا جان ‘‘ کا ریمارک کیا ہے ۔ در اصل دو دن قبل آدتیہ ناتھ یوپی میں ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے اور دوران تقریر انہوں نے کہا کہ 2017 سے پہلے غریبوں کو راشن ملنا مشکل تھا ۔ سارا راشن ’’ ابا جان ‘‘ بولنے والے لوگ ہضم کرجاتے تھے ۔ اب ہندووں کو بھی حکومت سے راشن مل رہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک ریمارک ہے اور ایک دستوری عہدہ پر فائز ریاست کے چیف منسٹر کو ایسے ریمارکس کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا ۔ تاہم بی جے پی قائدین اب عوامی زندگی میں کسی طرح کے اقدار اور روایات کی پاسداری کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انتخابات کے دوران سماج میں تفریق پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا یہ سلسلہ گذشتہ انتخابات میں وزیر اعظم نے شروع کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے اس وقت کہا تھا کہ اگر گاوں میں ایک قبرستان بنتا ہے تو ایک شمشان بھی بننا چاہئے ۔ وزیر اعظم کے ان ریمارکس پر بھی اس وقت بہت تنقیدیں ہوئی تھیں لیکن توقع کے مطابق ان کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔
سماج میں تفریق پیدا کرتے ہوئے انتخابی فائدہ حاصل کرنا بی جے پی کا کامیاب ہتھیار ہے ۔ اس میں اسے مہارت حاصل ہوگئی ہے ۔ وہ ہر موقع پر مذہبی تفرقہ پیدا کرتے ہوئے عوام کے ووٹ حاصل کرلیتے ہیں اور پانچ سال تک عوام کا استحصال کیا جاتا ہے ۔ اب جبکہ اترپردیش میں بھی اسمبلی انتخابات کیلئے محض چند ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے اور جو سروے کئے گئے ہیں ان میں بی جے پی کو بھاری نقصانات کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ یہ تک کہا گیا کہ بی جے پی کو ریاست میں 100 نشستیں بھی ملنے کی امید نہیں ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس عوام سے رجوع ہونے کیلئے کوئی ترقیاتی ایجنڈہ نہیں ہے ۔ کوئی بڑی کامیاب اسکیمات نہیں ہیں۔ عوام کیلئے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دئے گئے ۔ عوام کیلئے بی جے پی اقتدار میں کافی مشکلات بڑھ گئیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ دودھ سے لے کر پٹرولیم اشیا تک ‘ اشیائے ضروریہ سے لے کر ادویات تک ہر شئے کی قیمت دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ موجودہ ملازمتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ نئی ملازمتوں کا ملنا مشکل ہوگیا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹاکر انہیں ایک بار پھر فرقہ واریت کا جنون پیدا کرنے کی باضابطہ کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ یہ کوشش کوئی اور نہیں بلکہ بہ نفس نفیس خود چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے شروع کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام سے رجوع ہونے کیلئے بی جے پی کوئی ٹھوس وجہ نہیں رکھتی ۔
ہندو ۔ مسلم تفرقہ پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہی بی جے پی کا ایک حربہ باقی رہ گیا ہے اور اب اسی کو زیادہ شدت کے ساتھ اختیار کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس طرح کی کوششیں در اصل ملک کے جمہوری نظام کو داغدار اور کھوکھلا کرنے کی وجہ بنتی ہیں اور ایسی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کی دوسری معیاد ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی حکومت اپنی پانچ سالہ معیاد کی تکمیل کے قریب پہونچ چکی ہے ایسے میں سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے پاس چونکہ عوام سے رجوع ہونے کوئی ٹھوس کام نہیں ہے اس لئے فرقہ پرستی کا زہر گھولا جا رہا ہے جس کے خلاف عوام کو چوکس رہنا چاہئے ۔
