شنکراچاریہ کا کام لیڈروں کے گھر جا کر سیاسی بیان دینا نہیں ہے

   

ہندو مذہبی روایات کے مطابق شنکراچاریہ کا کام صرف پوجا کرنا ہے، دہلی سنت مہا منڈل کے صدر مہنت نارائن گری کا بیان

نئی دہلی، دہلی سنت مہامنڈل کے صدر اور شری دودھیشورناتھ مٹھ مندر کے مہنت نارائن گری نے جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ اویمکتیشورانند سرسوتی کے شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے گھر جاکر سیاسی بیان دینے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہبی روایات میں شنکراچاریہ کے پاس اعلیٰ ترین نشست ہے اور ان کا کام پوجا کرنا ہے اور ایسے قابل احترام شخص کے لیے کسی کے گھر جا کر سیاسی بیان دینا نامناسب ہے ۔ پنچ دشنام جونا اکھاڑہ کے ترجمان شری مہنت نارائن گری نے منگل کو ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ شنکراچاریہ نے شیوسینا دھڑے کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کے گھر جا کر سیاسی بیان دیا ہے اور یہ نامناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار مکیش امبانی کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنا بھی درست نہیں ہے ۔ یہ شنکراچاریہ کا کام نہیں ہے کہ وہ ایک عام آدمی کے گھر جا کر انہیں آشیرواد دے اور سیاسی بیان دیں۔ انہوں نے اسے نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سنت کو اس طرح سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹھاکرے اپنے والد بالا صاحب ٹھاکرے کے نظریہ کے برخلاف اپنے سیاسی عزائم کے لیے بدعتیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور قابل احترام شنکراچاریہ ایسے ودربھی کے گھر جا کر آشیرواد دے رہے ہیں، جو کہ بالکل نامناسب ہے ۔ ٹھاکرے کی رہائش گاہ پر جانے اور انہیں آشیرواد دینے کے بعد مہاراج سیاسی بیان دے رہے ہیں کہ ٹھاکرے کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ شریدودھیشورناتھ کے شری مہنت نے کہا کہ سادھو مہاتما کا کام پوجا کرنا اور بھگوان کا نام لینا ہوتا ہے ۔ الیکشن میں کسی کو جیتانا یا ہرانا کسی سادھو کا کام نہیں ہے ۔ ہمارا کام صرف بھگوان کی پوجا اور ارادھنا کرنا ہے ۔ یہ عوام کا کام ہے کہ الیکشن میں کس کو ہرانا ہے اور کس کو جیتانا ۔ شنکراچاریہ کا مقام بہت بلند ہے اور مذہب کے اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ایک قابل احترام سنت کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ایک عام آدمی کے گھر جا کر اسے آشیرواد دیں۔