چلو اچھا ہوا اپنوں میں کوئی غیر تو نکلا
اگر ہوتے سبھی اپنے تو بیگانے کہاں جاتے
ویسے تو بی جے پی ملک میں کسی کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہے اور وہ اپنی ہی من مانی کرنے کیلئے جانی جاتی ہے ۔ چاہے ملک کی اپوزیشن جماعتیں ہوں یا کوئی بڑے قانونی اور دستوری ادارے ہوں ‘ چاہے سیاسی قائدین ہوں یا پھر بسا اوقات عدالتی فیصلے ہوں بی جے پی کسی کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہوتی اور وہ خود کو ہندو مذہب کی چمپئن قرار دیتی ہے ۔ اس کا دعوی ہے کہ سارے ملک میں وہی ہندووں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی جماعت ہے تاہم اب بی جے پی اور ہندو دھرم کے مذہبی رہنماء شنکر آچاریہ ہی میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ خاص طور پر چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ اور شنکر آچاریہ کے مابین لفظی تکرار نے شدت اختیار کرلی ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش نے نام لئے بغیر شنکرآچاریہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہیں شیطان سے تشبیہہ دینے سے بھی گریز نہیں کیا ہے ۔ یہ چیف منسٹر یو پی کے غرور اور گھمنڈ کا ثبوت ہے ۔ اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ دنوں میگھ میلہ کے موقع پر شنکر آچاریہ اور ان کے قافلہ کو پریاگ راج میں اشنان کیلئے جانے سے روک دیا گیا ۔یو پی حکومت کا دعوی ہے کہشنکر آچاریہ کو اشنان سے نہیں روک گیا بلکہ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ دوسرے بھکتوں کی طرح پیدل جائیں ۔ اگر وہ اپنے رتھ پر جاتے ہیں تو بھگدڑ مچنے کا شبہ تھا ۔ شنکر آچاریہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کے رتھ کو نقصان پہونچایا گیا اور اترپردیش حکومت ہندو مذہب کی روایات کی خلاف ورزی پر اتر آئی ہے ۔ ان کا الزام تھا کہ ان کے رتھ کو نقصان پہونچاتے ہوئے ہندو مذہب کی ہتک اور توہین کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش نے اس واقعہ اور شنکر آچاریہ کی تنقید کے بعد ان کا نام لئے بغیر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ کچھ لوگ سنتوں کے بھیس میں شیطان کا رول ادا کر رہے ہیں۔ کئی گوشوں سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہندو مذہب کی چمپئن ہونے کا دعوی کرنے والی بی جے پی ہندووں کے مذہبی رہنماء اور شنکر آچاریہ تک کی ہتک کرنے پر کیوں آمادہ ہوگئی ہے ۔ بی جے پی شنکر آچاریہ کے ساتھ بھی سیاسی مخالفین والا رویہ ہی اختیار کرنے لگی ہے ۔
کہا جا رہا ہے کہ اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اقتدار کے نشہ میں چور ہیں اور وہ انتہائی گھمنڈ میں ہیں ۔ وہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہے ۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ خود ہندو مذہب سے نہیں بلکہ ہندو مذہب ان کی وجہ سے برقرار ہے ۔ شنکر آچاریہ نے تو آدتیہ ناتھ کو یوگی تک قرار دینے سے انکار کردیا تھا اور کہا کہ وہ ریاست کے چیف منسٹر ہیں اور انہیں سیاسی فیصلے کرنے چاہئیں ۔ مذہبی امور کو مذہبی قائدین کے سپرد کردیا جانا چاہئے ۔اس طرح کی بیان بازیاں سماج پر منفی اثر ڈالنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ کسی ریاست کے چیف منسٹر کو چاہے وہ کوئی سنت ہی کیوں نہ کہلاتا ہو کسی بھی مذہبی رہنماء کی ہتک کرنے یا اس کو شیطان سے تشبیہہ دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ دی جانی چاہئے ۔ بھلے ہی کسی کے نظریات یا اقدامات سے اتفاق کیا جائے یا نہ کیا جائے لیکن کسی کے بھی خلاف شخصی ریمارکس یا تبصروں کو ہوا نہیں دی جانی چاہئے ۔ خاص طور پر اس صورت میں جبکہ کسی شخصیت سے مذہبی جذبات جڑے ہوں اور لوگ انہیں شنکر آچاریہ قرار دیتے ہوں ۔ شنکر آچاریہ نے یہ بات درست کہی کہ سیاسی قائدین اور چیف منسٹروں کو ریاست کی بہتری سے متعلق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست کے عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں اور مذہبی امور میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے ان امور کو مذہبی شخصیتوں کے سپرد ہی کردینے کی ضرورت ہے تاہم بی جے پی ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔
بی جے پی نے ملک میں ہر شعبہ میں اپنی اجارہ داری کو یقینی بنایا ہے ۔ زندگی کا چاہے کوئی شعبہ ہو بی جے پی چاہتی ہے کہ سب اس کے کنٹرول میں رہیں اور اس کے اشاروں پر ناچیں۔ اس کے تمام صحیح اور غلط اقدامات کی تائید کی جائے ۔ یہ روایت درست نہیں کہی جاسکتی اور نہ ہی اس کے ذریعہ سماج میں کوئی اچھا پیام جاسکتا ہو۔مذہبی قائدین چاہے وہ کسی بھی مذہب کے کیوں نہ ہوں تنقیدوں کے دائر ہ سے باہر رہنے چاہئیں عوامی سطح پر انہیں تنقیدوں کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہئے تاکہ سماج میں مذہبی شخصیتوں کے تعقل سے کسی طرح کی الجھن پیدا ہونے نہ پائے اور نہ سماج میں کوئی غلط پیام جاسکے ۔