شولاپور، 16 ستمبر (یو این آئی) مہاراشٹرا کے ضلع شولاپور میں ایک گاؤں کے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس نے مسلمانوں پر مندر کی بے حرمتی کا الزام لگایا تھا۔ یہ کارروائی مہاراشٹرا ریاستی اقلیتی کمیشن کی ہدایت پر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے کی گئی۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سہنتا 2023 کی دفعات 299 اور 302 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے ، جس میں مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ شکایت کے مطابق 5 ستمبر کی شام گاؤں مانیگاؤں میں وٹھل مندر میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی جس کا اہتمام مقامی استاد شاہجن کوربو اور سشیل پردے نے کیا تھا۔ تقریب میں مسلمانوں سمیت گاؤں کے کئی اساتذہ اور رہائشی شریک ہوئے ۔ الزام ہے کہ تقریب کے اختتام پر گاؤں کے رہائشی پرمیشور راؤت نے کوربو کے کزن شوکت شیخ اور پردے سے کہا کہ مسلمان اساتذہ اور کمیونٹی کے ارکان نے گائے کا گوشت کھا کر مندر کی بے حرمتی کی ہے ۔ راؤت پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو دی گئی دعوت پر اعتراض کیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی اپنے اسی موقف کا اظہار کیا۔ پولیس کے مطابق راؤت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے گردش کرنے والی پوسٹس نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔
اس واقعے کے بعد مانیگاؤں کی مسلم برادری نے ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان اور رکن وسیم برہان کے سامنے شکایت درج کرائی۔ برادری نے کہا کہ گاؤں میں تقریباً 300 تا 400 مسلمان رہتے ہیں جو زیادہ تر کسان ہیں اور انہیں راؤت جیسے افراد کی جانب سے گوشت کھانے کے الزامات اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ 12 ستمبر کو برہان اور شکایت کنندگان کا ایک وفد ضلع شولاپور کے ایس پی اتل کلکرنی سے ملا اور معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد کلکرنی نے مڈھا پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی کہ ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ۔ جس کے بعد پولیس نے 13 مقدمہ درج کیا۔