محمد عامر نظامی
انسان کی ساری زندگی دو چیزوں کے درمیان گزرتی ہے ، زندگی میں کبھی بہار آتی ہے کبھی خزاں ، کبھی مسکراہٹیں ہوتی ہیں کبھی آنسو ،کبھی نعمتیں برستی ہے کبھی آزمائشیں ٹوٹ پڑتی ہے، کبھی زندگی ہم پر مہربان ہوتی ہے ، کبھی ہم زندگی کے فیصلوں پر حیران ہوتے ہیں،کبھی راستے نرم ہوتے ہیں کبھی قدم کانٹوں سے بھر جاتے ہیں، کبھی لوگ ساتھ ہوتے ہیں ،کبھی تنہائی گلے لگ جاتی ہے ،الغرض جب نعمت ملے تو امتحان شکر کا ہوتا ہے اور جب آزمائش ہو تو امتحان صبر کا ہوتاہے ۔ مومن کسی بھی حال میں اللہ کو نہیں چھوڑتا ،نعمت ملے تو شکر خداوندی بجالاتا ہے اور مصیبت آئے تو صبر کے دامن کو تھامے رکھتا ہے۔’’شکر‘‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک احساس ہے ایسا احساس جس میں نعمت دینے والے کی تعریف بھی ہو اور نعمت کی پہچان بھی ہو اور دینے والے کو کبھی نہ بھولے ، خود اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے’’ اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں اور زیادہ عطاء کرونگا ‘‘ یعنی تم بس شکر کرنا شروع کردو میں نعمتوں کا دروازہ خود کھولدوں گا۔ شکر سے انسان کو بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ ’’صبر‘‘یہ کمزوری نہیں بلکہ یہ وہ طاقت ہے جو ٹوٹے ہوئے انسان کو سنبھالتی ہے ،یہ وہ لمحہ ہے جب آنکھیں نم ہوں ، دل بھاری ہو اور زبان شکوہ نہ کرے بلکہ کہے : یا اللہ ! میں تیرے فیصلوں پر راضی ہوں ۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاںبندہ خود کو ا کیلا محسوس نہیں کرتا کیونکہ قرآن کہتا ہے: ’’ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے‘‘ کیا اس سے بڑی بھی خوشخبری کوئی ہو سکتی ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مومن کا ہر حال خیر ہے‘‘ ۔ یعنی مومن کا نعمتوں میں رہنا بھی خیر ہے ،آزمائشوں میں رہنا بھی خیر ہے ، اس کی ہر کیفیت ایک ثواب ہے ، ایک درجہ ہے ، ایک خیر ہے ۔ شکر اور صبر یہ دونوں وہ تحفے ہیں جو اللہ صرف خاص بندوں کو دیتا ہے ۔ اللہ ہمیں وہ دل دے جو ہر حال میں کہہ سکے الحمد للہ اور وہ ہمت دے کہ ہر مشکل میں کہہ سکے یا اللہ میں راضی ہوں ۔