اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکومت کی منظوری کا انتظار، پنچایت کی6 ہزار نشستیں الیکشن کی منتظر
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں پنچایت راج انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کے پس منظر میں کے سی آر حکومت پنچایت انتخابات کے فوری انعقاد کے حق میں دکھائی نہیں دیتی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اضلاع اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں پارٹی کی صورتحال کے بارے میں سروے رپورٹ حوصلہ افزاء نہیں ہے لہذا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دیہی مجالس مقامی کی 6000 نشستوں پر فوری تقررات کے حق میں نہیں ہیں۔ پنچایت ایکٹ 2018 کے تحت اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تیاری کیلئے ریاستی حکومت کی اجازت ضروری ہے۔ گذشتہ تین برسوں سے سیاسی جماعتیں اور رضاکارانہ تنظیمیں پنچایت انتخابات کیلئے عدالت اور حکومت کا دروازہ کھٹکھٹارہی ہیں۔ پنچایت راج ایکٹ 2018 کو مارچ 2018 میں منظوری دی گئی تھی جس کے مطابق الیکشن کمیشن کو حکومت کی منظوری کا انتظار کرنا ہوگا۔ حکومت سے مشاورت کے بغیر اسٹیٹ الیکشن کمیشن اعلامیہ جاری نہیں کرسکتا۔ شیڈول اور انتخابی تاریخوں کو قطعیت دینے کیلئے ریاستی حکومت سے مشاورت اور منظوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ 2020 اور 2021 میں حکومت نے مجالس مقامی انتخابات کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا تھا کہ کورونا کی صورتحال میں الیکشن ٹھیک نہیں ہے۔ دوباک ، ناگرجنا ساگر اور حضورآباد اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناؤ کے پیش نظر بھی پنچایت راج اداروں کے انتخابات پر توجہ نہیں دی گئی۔ ریاست میں 2 میونسپل کارپوریشنوں ورنگل اور کھمم کے علاوہ 5 میونسپلٹیز اچم پیٹ، سدی پیٹ، نکریکل ، جڑچرلہ اور کتور میں انتخابات باقی ہیں۔ر