سیاسی مفادات کیلئے بی جے پی کی غیر ملکی ہندوئوں سے ہمدردی، آسام میں احتجاجی مظاہرے
نئی دہلی۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت نے شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا میں منظور کروالیا لیکن اس کا اصل امتحان یا آزمائش راجیہ سبھا میں رہے گی جہاں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی کو امید ہے کہ ایوان بالا میں بھی شہریت ترمیمی بل منظور کرلیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں اپوزیشن کانگریس نے اپنے ارکان راجیہ سبھا کو خبردار کرنے کے لیے ایک تین سطری وہپ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعہ انہیں ہدایت دی جائے گی کہ وہ نہ صرف ایوانم میں حاضر رہیں بلکہ حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی بل پیش کرنے پر اس کی شدت سے مخالفت کریں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور آسام میں پارٹی امور کے نگران ہریش راوت کے حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں بتایا گیا کہ راوت نے صدر کانگریس راہول گاندھی اور راجیہس بھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آماد سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی اور شہریت ترمیمی بل کی مخالفت سے متعلق کانگریس کے موقف اور راجیہ سبھا میں اس کی جانب سے اختیار کئے جانے والی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔راوت کا کہنا تھا کہ کانگریس کو آسام اور شمال مشرقی ریاستوں کی ہمیشہ سے ہی فکر دامن گیر رہی ہے۔ کانگریس ارکان بل کے خلاف ووٹ دیں گے اور پارٹی ہم خیال جماعتوں کو بھی اس معاملہ میں اعتماد میں لے گی۔ لوک سبھا میں منظور کئے گئے شہریت ترمیمی بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ملکوں سے ہندوستان منتقل ہونے والے ہندوئوں، سکھوں، پارسیوں، جین اور عیسائیوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی جبکہ ان ملکوں سے ہندوستان منتقل ہونے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ شہریت ترمیمی بل کے خلاف مہم میں پیش پیش رہنے والی کرشک مکتی سگرام سمیتی اور دوسری اہم تنظیموں کا دعوی ہے کہ اگر مودی حکومت راجیہ سبھا میں بھی یہ بل منظور کروانے میں کامیاب ہوتی ہے تو تقریباً 20 لاکھ بنگلہ دیشی ہندو ہندوستان کے شہری بن جائیں گے۔ کے ایم ایس ایس کے مشیر اکھیل گوگوئی نے شہریت ترمیمی بل کے لیے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔