شہری حقوق تنظیموں پر دشا کے والد کی تنقید

   

حیدرآباد 10 ڈسمبر (این ایس ایس) اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کی شکار ویٹرنری ڈاکٹر دشا کے والد نے ان کی بیٹی کے قتل کے چار ملزمین کی انکاؤنٹر میں ہلاکتوں کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے والی شہری حقوق تنظیموں کی مذمت کی ہے۔ مقتولہ کے والد نے سوال کیاکہ شہری حقوق کی یہ دعویدار اُس وقت کہاں چھپ گئے تھے جب ان کی ان چار ملزمین کی ٹولی نے ان کی بیٹی کا اغواء کرنے کے بعد اُس کے ساتھ گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا اور پھر لڑکی کو قتل کرنے کے بعد نعش پر پٹرول چھڑک کر جلادیا گیا تھا۔ دشا کے والد نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ مقام واردات سے فرار ہونے والے وحشیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا چنانچہ اُنھیں 100 فیصد انصاف تو حاصل نہیں ہوسکا۔ اُنھوں نے کہاکہ اس قسم کے ناقابل معافی گھناؤنے جرائم میں ملوث انسان نما درندوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے فی الفور سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔