شہر حیدرآباد میں انتخابی اعلامیہ کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا آغاز

   

جلسہ حالات حاضرہ یا جلسہ ملی بیداری کے عدم آغاز سے شہریوں میں کوئی جوش و خروش نہیں
حیدرآباد۔یکم۔نومبر۔(سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی انتخابات کے لئے 3 نومبر کو اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور شہر حیدرآباد میں بھی سیاسی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہونے لگ جائے گا۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لئے شیڈول جاری کئے جانے کے ساتھ ہی ریاست میں انتخابی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں لیکن شہر حیدرآباد میں سیاسی سرگرمیاں اس شدت کے ساتھ نظر نہیں آرہی ہیں جو کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران عام طور پر ہوا کرتی ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے جاری تلاشی مہم اور انتخابات کے دوران خدمات انجام دینے کے لئے نیم فوجی دستوں اور اسٹرائیکنگ فورس کی گاڑیوں پر نصب کیمروں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ ریاست میں انتخابات کا موسم ہے لیکن شہر میں کوئی جلسہ یا جلوس منعقد نہ کئے جانے اور مجلس کے جلسہ حالات حاضرہ شروع نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں میں ابھی انتخابات سے متعلق جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے اسی طرح مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے بھی انتخابات کے دوران جلسہ ملی بیداری منعقد کئے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ اب تک بھی جلسہ ملی بیداری کا انعقاد بھی شروع نہیں کیاگیا ۔ دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے جلسہ حالات حاضرہ اور جلسہ ملی بیداری شہریوں کے لئے انتخابی تفریح اور ذہن سازی کا بہترین ذریعہ ہوا کرتے ہیں لیکن ان جلسوں کا آغاز نہ کئے جانے پر کہا جا رہاہے کہ دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین جلسوں میں عوام کی قلیل تعداد کی شرکت سے مایوس ہیں اسی لئے امیدواروں کی قطعی فہرست کی اجرائی تک جلسہ عام منعقد کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 3نومبر کو انتخابی اعلامیہ کی اجرائی اور اس کے بعد امیدواروں کی فہرست و جن حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کیا جا رہاہے ان حلقہ جات اسمبلی میں جلسہ عام منعقد کرنے کے اقدامات کئے جانے کا امکان ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز‘ خیریت آباد ‘ ملک پیٹ‘ کے علاوہ کسی اور حلقہ اسمبلی میں امیدواروں کی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں بلکہ ان حلقہ جات اسمبلی میں بھی شدت کے ساتھ انتخابی مہم کی علامات نہیں ہیں ۔ حلقہ اسمبلی صنعت نگر میں کانگریس اور بی آر ایس کے دونوں امیدوار اپنی انتخابی مہم شروع کرچکے ہیںجبکہ پرانے شہر سے متصل حلقہ اسمبلی مہیشورم میں انتخابی مہم سے زیادہ موجودہ ریاستی وزیر مسز پی سبیتا اندرا ریڈی کے خلاف پوسٹر بازی کی مہم نظر آرہی ہے جہاں عوام کی جانب سے ان کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی ایل بی نگر میں کانگریس امیدوار مسٹر مدھو گوڑ یشکی اپنی انتخابی مہم شروع کرچکے ہیں لیکن ان کے حریف موجودہ رکن اسمبلی کی انتخابی مہم کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود سیاسی جماعتوں کے متوقع امیدواروں کی جانب سے خاموشی کے ساتھ عوام کے درمیان اپنی انتخابی مہم چلائی جانے لگی ہے اور اس مرتبہ راست عوام کے درمیان پہنچنے کے بجائے مذہبی شخصیات اور آئمہ و مؤذنین کے ذریعہ عوام تک پہنچنے کی حکمت عملی پر مسلم امیدوار توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔