شہر حیدرآباد کے ماسٹر پلان ورنگل میں نیو میٹرو ریل کا منصوبہ

   

Ferty9 Clinic

مرکزی بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ ، کے ٹی آر کا مرکزی وزراء کو مکتوب
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے ریاست میں محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے کئے جانے والے مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے مرکزی بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کے علاوہ مرکزی وزیر شہری ترقیات امور و ہاوزنگ ہردیپ سنگھ پوری کو مکتوبات روانہ کیا ہے ۔ مکتوب میں کے ٹی آر نے بتایا کہ تلنگانہ کے لیے شہر حیدرآباد ’ مالیاتی انجن ‘ ہے ۔ شہر کی ترقی کے لیے کئی نئے پراجکٹس کا آغاز کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد کی ترقی کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ ’ حیدرآباد اربن اگلومریشن ایریا ‘ کے نام سے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد کے مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیوریج ماسٹر پلان کا جامع منصوبہ تیار کرتے ہوئے حکومت کام کررہی ہے ۔ اس ماسٹر پلان کے لیے تلنگانہ حکومت نے پلاننگ ، سروے اور ڈیزائن بھی تیار کرلیا ہے ۔ ماسٹر پلان میں تین پیاکیجس کے تحت کام کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ، سیوریج واٹر ٹرنک لائنس کا قیام وغیرہ شامل ہیں ۔ حال ہی میں نیشنل گرین ٹریبونل نے موسیٰ ندی پراجکٹ کی صفائی کی ہدایت دی ہے جس کو بھی حکومت کے تیار کردہ ماسٹر پلان میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ ایس ٹی پیز کے ساتھ سیوریج کلکشن نیٹ ورک ٹرنک اور سیور لائن نیٹ ورک جملہ 2232 کیلو میٹر پر ہونے کا امکان ہے جس پر 3722 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں اور اندرون 36 ماہ کاموں کی تکمیل کا منصوبہ تیار کیا گیا ۔ اس ماسٹر پلان کومرکزی بجٹ میں کم از کم 20 فیصد یعنی 750 کروڑ روپئے کے فنڈز مختص کریں ۔ حال میں سیلاب سے حیدرآباد کی حالت سنگین ہوگئی تھی ۔ نالوں کو ترقی دینے کا خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے ۔ جس پر 1200 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں ۔ اس کے لیے کم از کم 20 فیصد یعنی 240 کروڑ روپئے مرکزی بجٹ میں مختص کریں ۔ تلنگانہ میں حیدرآباد کے بعد ورنگل دوسرا بڑا شہر ہے ۔ جہاں پر ٹرانسپورٹ نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ( نیو میٹرو ریل ) سرویس چلانے کا تلنگانہ حکومت نے منصوبہ تیار کیا ہے ۔ تقریبا 15.5 کیلو میٹر تک نیو میٹرو ریل چلانے کے پراجکٹ پر 1050 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں لہذا مرکزی بجٹ میں اس پراجکٹ کے لیے 20 فیصد فنڈز یعنی 210 کروڑ روپئے ایکوٹی یا گرانڈ کے تحت مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ریاست کے 57 میونسپلٹیز میں انڈر گراونڈ ڈرینج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پراجکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں 30 شہروں کے لیے 2828 کروڑ روپئے سے ترقیاتی کاموں کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ ان کاموں کے لیے مرکزی بجٹ میں 20 فیصد بجٹ یعنی 750 کروڑ روپئے مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔۔