شہر حیدرآباد میں منشیات فروخت کا ریاکٹ سرگرم

   

سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے رقم کا تعین، گرفتاری سے بچنے مصروف سڑکوں پر راہ چلتے ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں منتقلی

حیدرآباد۔11جولائی (سیاست نیوز) شہر میں منشیات کی فروخت کے ریاکٹس کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن فی الحال شہر میں منشیات بالخصوص چرس اور گانجہ کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی فروخت اور ڈیلیوری کے لئے نیا طریقۂ کار اختیار کیا جارہا ہے اور اس طریقہ کار کے دوران خریدار اور فروخت کنندہ کسی مقام پر ملاقات نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں بلکہ منشیات کی ڈیلیوری کے لئے پہنچنے والے کی جانب سے خریدار کی شناخت کی جاتی ہے اور اس سے اپنی گاڑی یا کار میں سفر کرتے رہنے کے لئے کہا جاتا ہے اور جو شخص گانجہ یا چرس کی ڈیلیوری کے لئے پہنچتا ہے وہ گاڑی کی شناخت اور بہ آسانی فرار ہونے کا راستہ دستیاب ہوتے ہی گاڑی میں منشیات پھینک کر برق رفتاری کے ساتھ نکل جاتاہے۔ شہر حیدرآباد میں منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے اور منشیات کی فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف چند برس قبل بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی تھی اور اس مہم کے دوران کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اب شہر میں منشیات کے عادی نوجوانوں اور فروخت کنندگان کی جانب سے گرفتاری سے محفوظ رہنے اور کسی بھی طرح کی مشکل سے بچنے کیلئے راست ملاقات کے بجائے راہ چلتے ڈیلیوری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔منشیات کی فروخت میں ملوث نوجوانوں کے مطابق انہیں واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم جہاں سے پیغام رسانی عمل میں لائی جاتی ہے ان کے ذریعہ درکار مقدار اور قیمت وغیرہ طئے کی جاتی ہے اور رقمی لین دین جہاں تک ممکن ہوسکے آن لائن کیا جانے لگا ہے تاکہ رقم لینے اور نشہ دینے کے لئے ملاقات کی ضرورت محسوس نہ ہو۔شہر کی مصروف ترین سڑکوں پر منشیات کے عادی افراد کار میں ہوتے ہیں اور موٹر سیکل پر ڈیلیوری کرنے والا پہنچتا ہے جو کہ خریدار سے ملاقات یاراستہ میں گاڑی روکے بغیر ڈیلیوری کرتے ہوئے فرار اختیار کرتا ہے۔منشیات کے عادی نوجوانوں کی جانب سے منشیات کے حصول کے لئے اب کسی سنسان مقام کا انتخاب نہیں کیا جا رہاہے بلکہ وہ مصروف ترین سڑک پر راہ چلتے ہوئے منشیات حاصل کرنے میں کامیاب ہونے لگے ہیں۔محکمہ پولیس اور محکمہ نارکوٹکس کو اب اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے چوکسی اختیار کرنی ہوگی ۔