شہر میں خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی افواہیں

   

ڈی جی پی کی پولیس کمشنرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس، اغوا کی تردید اور عوام کو اطمینان دلانے کی کوشش
حیدرآباد ۔ /12 جون (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں سے خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ اور اغواء ہونے کے واقعات کے پیش نظر شہریوں میں خوف کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ جاریہ ماہ یکم جون سے تا /10 جون تک 540 افراد بشمول خواتین و لڑکیاں اچانک لاپتہ ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ ان گمشدگیوں کے پس منظر میں سوشیل میڈیا پر ایسی کئی خبریں عام ہوگئی ہیں جس میں بتایا گیا کہ شہر سے لڑکیاں اور خواتین کا اغواء کیا جارہا ہے اور رات کے اوقات خواتین سڑکوں پر نہ گھومیں ۔ اسی دوران ایک تلگو روزنامہ نے بھی ریاست میں گمشدہ ہونے والے افراد اور ان کی بازیابی میں پولیس سستی کا مظاہرہ کرنے سے متعلق ایک رپورٹ شائع کیا جس کے بعد ریاستی پولیس حرکت میں آگئی ۔ خواتین کی گمشدگی کا مسئلہ سیاسی رنگ بھی اختیار کرلیا ہے اور ریاستی بی جے پی یونٹ نے پولیس کی ناکامی کا الزام عائد کیا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر مسلسل اغواء اور گمشدہ خواتین کی خبریں وائرل ہونے کے پیش نظر ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ مہندر ریڈی نے ریاست کے تمام سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور کمشنران کا ایک ویڈیو کانفرنس اجلاس منعقد کیا جس میں اپنے متعلقہ یونٹس میں لاپتہ ہونے والے خواتین ، لڑکیاں اور بچوں کا پتہ لگانے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت دی ۔ اسی دوران ڈی جی پی نے ریاست کے مختلف مقامات سے خواتین کا اغواء کئے جانے کی تردید کی اور اپنے ماتحت عہدیداروں کو یہ حکم دیا کہ وہ گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں ۔ جبکہ پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار ، پولیس سائبر آباد مسٹر وی سی سجنار اور پولیس کمشنر رچہ کونڈہ مہیش مرلی دھر بھاگوت نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ یہ انتباہ دیا کہ خواتین اور بچوں کے اغواء متعلق بے بنیاد اور غلط خبر پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2019 ء میں اب تک جملہ 540 افراد لاپتہ ہوگئے تھے جس میں 220 کا پتہ لگایا گیا اور 318 کا پتہ لگانا ہنوز باقی ہے ۔ جبکہ گمشدہ ہونے والے افراد میں 270 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں ۔