شہر میں فرضی نمبر پلیٹ اور ایک نمبر پلیٹ پر دو گاڑیاںچلانے کا رجحان

   

پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ۔ سخت کارروائیوں کا انتباہ
حیدرآباد۔14جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں فرضی نمبر پلیٹ اور ایک نمبر پلیٹ پر دو مختلف گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف پولیس نے کاروائی میں شدت پیدا کردی ہے ۔ خانگی ٹراویلس کی بسوں کے ایک ہی نمبر پر ایک سے زائد بسوں کے چلانے کے اسکام کے ذریعہ روڈ ٹیکس چوری کئی برسوں سے چل رہی ہے اور اب ہوٹلوں میں چلائی جانے والی موٹر کاروں کو ایک ہی نمبر کے ذریعہ چلانے کا اسکام چل رہا ہے ۔ ایک ہی نمبر پلیٹ کے ذریعہ ایک سے زائد بس اور موٹر کاروں کو چلاکر دھوکہ دہی کرنے والوں میں اب موٹر سیکل اور کار مالکین بھی شامل ہوچکے ہیں جو کہ خانگی نمبر پلیٹ رکھنے کے باوجود ایک سے زائد گاڑیاں ایک ہی نمبر پر چلاکر ٹریفک چالانات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں پولیس نے بڑے پیمانے پر کاروائیوں کا آغاز کیا ہے اور شہر اور نواحی علاقوں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہونے والی گاڑیوں کی تصاویر کا مصنوعی ذہانت کے ذریعہ جائزہ لیتے ہوئے ایک ہی نمبر کی مختلف گاڑیوں کی شناخت کی جانے لگی ہے اور ان گاڑیوں کے مالکین کو حراست میں لینے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 2 ماہ میںٹریفک و لاء اینڈ آرڈر پولیس کی کاروائیوں میں 10 سے زائد افراد اور 20 سے زیادہ گاڑیوں کو پکڑا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دنوں شہر کے نواحی علاقوں میں ایک ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ چلائی جانے والی مختلف گاڑیوں کی نشاندہی کی خصوصی مہم شروع کی گئی تاکہ جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے۔ عہدیداروں کے مطابق ایک ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ چلائی جانے والی دو مختلف گاڑیاں رکھنا نہ صرف جرم ہے بلکہ اس جرم کو منظم جرائم کے زمرہ میں بھی شمار کیا جاتا ہے کیونکہ منصوبہ بند انداز میں دو مختلف گاڑیوں کو ایک ہی نمبر لگاکر نہ صرف چالان سے محفوظ رہنے کی کوشش کی جار ہی ہے حکومت‘ پولیس اور محکمہ ٹیکس کے علاوہ دیگر محکمہ جات کو دھوکہ دیا جا رہاہے اسی لئے ایک ہی نمبر کی 2 مختلف گاڑیوں کی نشاندہی کی صورت میں ان گاڑیوں کو فوری طور پر ضبط کرنے اقدامات کئے جاتے ہیں اور ان کے مالکین کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جاتا ہے ۔ گذشتہ دنوں کی گئی کاروائیوں کے باوجود شہر اور نواحی علاقوں میں ایک ہی نمبر کی مختلف گاڑیاں اب بھی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔3/k/b