جملہ 2,250 کروڑ روپئے کے صرفہ سے کئی پراجیکٹس کا آغاز ۔ کام تیزی سے جاری
حیدرآباد 26 جون ( سیاست نیوز ) شہری علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور حکومت کا دعوی ہے کہ جملہ 2,250 کروڑ روپئے کے صرفہ سے پانی جمع ہونے کی شکایات کو دور کرنے کے پراجیکٹس شروع کردئے گئے ہیں۔ ان مقامات پر اکثر شدید بارش کے موقع پر پانی جمع ہوجاتا ہے اور خاص طور پر نشیبی علاقے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ مقامات پر اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے بڑے پراجیکٹس شروع کئے گئے ہیں جن میں اسٹارم واٹر ڈرینس کی چوڑائی میں اضافہ ‘ ریٹیننگ والس کی تعمیر ‘ باکس ڈرینس کی تعمیر ‘ اسٹارم واٹر ڈرینس کی ڈی سلٹنگ اور موجودہ ڈرینس کی مرمت وغیرہ شامل ہے ۔ شہر میں نالوں سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ شدید بارش کی صورت میں عوام کو کسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنے کی نوبت نہ آئے اور پانع جمع نہ ہونے پائے ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ مانسون کے دوران عوام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کئی نالوں اور اسٹارم واٹر ڈرینس پر سلیب بھی ڈالا جا رہا ہے اور اطراف کے مقامات کی حصار بندی کی جا رہی ہے ۔ کچھ مقامات پر یہ ڈرینس گہرے ہیں اور عوام کو چوکس کرنے کیلئے بورڈز اور بیانرس بھی لگا دئے گئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہری علاقوں کو پانی جمع ہونے کے مسئلہ سے بچانے کیلئے مزید کئی کاموں کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے ۔ ذخائر آب اور جھیلوں کے اطراف بھی کئی کام کئے جا رہے ہیں۔ جھیلوں کے مقامات پر کئی طرح کے احتیاطی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور تالابوں وغیرہ کی فینسنگ بھی کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ سیویج کے بہاؤ کا رخ بھی موڑا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 2,250 کروڑ میں جملہ 415 کروڑ روپئے کے کاموں کا گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انجینئرنگ ونگ کی جانب سے آغاز کیا گیا ہے ۔ پراجیکٹ ونگ کی جانب سے جملہ 1,006 کروڑ روپئے کے کام کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اسٹریٹجک نالہ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 735 کروڑ روپئے کے کام کئے جا رہے ہیں۔ مختلف جھیلوں اور ذخائر آب کے اطراف 94 کروڑ روپئے کے کام ہو ریہ ہیں۔ نالہ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جی ایچ ایم سی حدود میں 37 کام کئے جا رہے ہیں۔ 36 مقامات پر انتہائی تیزی کے ساتھ یہ کام کئے جا رہے ہیں۔