اہم شاہراہیں جھیل میں تبدیل، نشیبی علاقوں میں پانی داخل،کئی مقامات پر ٹریفک جام
دو گھنٹوں میں 100 ملی میٹر بارش، آئندہ تین دن بارش کی پیش قیاسی، عوام کو چوکسی کا مشورہ
حیدرآباد۔/26جولائی، ( سیاست نیوز) پیر کی نصف شب کو شہر حیدرآباد کے علاوہ مضافاتی علاقوں کے ساتھ اضلاع میں دھواں دھار بارش ہوئی ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے۔ نامپلی اور ملے پلی میں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔ موسیٰ رام باغ برج پر پانی پہونچ جانے سے گول ناکہ والی سڑک پر آمدورفت بند ہوگئی۔ ملک پیٹ ریلوے برج پر پانی جمع ہوگیا۔ شہر کے مضافات اور ضلع رنگاریڈی میں ہوئی بارش سے عثمان ساگر اور حمایت ساگر ذخائر میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا۔ عثمان ساگر کے 12 گیٹس کو تین فیٹ اٹھاکر پانی چھوڑا جارہا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عہدیدار ان گیٹس کو مزید ایک فیٹ یعنی جملہ چار فیٹ اُٹھاکر پانی موسیٰ ندی میں خارج کررہے ہیں۔ عثمان ساگر میں پانی کا بہاؤ 2400 کیوسکس ہے ۔ حمایت ساگر میں ایک ہفتہ سے دو گیٹس اٹھاکر پانی چھوڑا جارہا تھا کل وقار آباد، چیوڑلہ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بارش سے حمایت ساگر میں پانی کا اِنفلو 1200 کیوسکس ہوگیا ہے۔ عہدیدار آج حمایت ساگر کے مزید دو گیٹس کھول کر جملہ 6 گیٹس سے 320 کیوسکس پانی موسیٰ ندی میں چھوڑ رہے ہیں۔ دونوں ذخائر آب سے پانی کے اخراج کے بعد موسیٰ ندی کے پانی کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوگئی ہے۔ عہدیداروں نے پہلا انتباہ جاری کرتے ہوئے موسیٰ ندی کے کنارے رہنے والے عوام بالخصوص باپو گھاٹ، شنکر نگر، چادر گھاٹ ، موسیٰ رام باغ کے عوام کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ محکمہ موسمیات نے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست بھر میں مزید تین تک بارش کی پیش قیاسی کی ہے جس کے بعد چیف سکریٹری سومیش کمار نے اضلاع کلکٹرس کو چوکسی اختیار کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔آدھی رات کے بعد اچانک تیز بارش سے پرانے شہر کے کئی علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے ، گھروں اور دکانات میں پانی داخل ہوگیا۔رات بھرعوام کو پانی کی نکاسی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سڑکوں پر گھٹنے برابر تک پانی جمع ہوگیا جس سے گاڑی چلانے والوں کو کافی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ یاقوت پورہ، ملے پلی، نامپلی، ٹولی چوکی کے علاوہ دوسرے مقامات پر گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔ بیگم بازار میں گھروں اوردکانات میں پانی داخل ہوگیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ نصف شب کے دوران دو گھنٹوں میں مختلف مقامات پر 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ حیات نگر میں 98.5 ، عنبرپیٹ میں 89.8 ، سعیدآباد میں 88.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ بہادر پورہ ، چارمینار، حمایت نگر، نامپلی میں 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوگئی ہے۔ کل رات سے ہی جی ایچ ایم سی کے عہدیدار اور ڈی آر ایف ٹیمیں متحرک ہوگئی ہیں اور جن علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا اس کی نکاسی میں مصروف دیکھی گئیں۔ اضلاع میں بھی بارش کی ایسی ہی صورتحال ہے۔ سب سے زیادہ وقارآباد میں 13 سنٹی میٹر بارش ہوئی ہے۔ مدگل چٹم پلی میں 12.4 سنٹی میٹر، سنگاریڈی، نظام آباد، عادل آباد، ہنمکنڈہ ، سدی پیٹ ، نلگنڈہ ، نرمل میں بھی زبردست بارش ہوئی ہے۔ کئی آبپاشی پراجکٹس لبریز ہوگئے ہیں اور کئی پراجکٹس سے پانی کا اخراج جاری ہے۔ دریائے گوداوری کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے محبوب آباد کے آرنیا پلی کے پاس وٹی واگو لبریز ہوکر بہہ رہا ہے۔ کیسا مدرم اور گوڈور کے درمیان آمدورفت میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ شہر کے مضافات میں واقع سرورنگر، کودنڈا رام نگر علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ سورارم تلگو تلی نگر میں گھٹنوں برابر تک پانی جمع ہوگیا تھا۔ جی ایچ ایم سی کا عملہ پانی کی نکاسی میں مصروف دیکھا گیا۔ن