شہر کومرکزی زیرانتظام علاقہ معہ قومی دارالحکومت بنانے کی قیاس آرائیاں

   

حیدرآباد کا مستقبل
شہر کومرکزی زیرانتظام علاقہ معہ قومی دارالحکومت بنانے کی قیاس آرائیاں
کشمیر کے خصوصی موقف میںتبدیلی کے بعد کچھ بھی ممکن ، حیدرآباد کے ذریعہ مرکز کئی حدف کو نشانہ بناسکتی ہے

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔19اگسٹ۔حیدرآباد مرکزی زیر انتظام علاقہ ہوگا یا ہندستان کا دوسرا دارلحکومت بنایاجائے گا! کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی کے بعد اب مرکزی حکومت کی نظریں حیدرآباد پر مرکوز ہیں اور کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا جائے گا لیکن دوسری اطلاع یہ بھی گشت کر رہی ہے کہ انضمام حیدرآباد کے بعد ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکے نظریہ اور رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد کو نہ صرف مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گابلکہ اس شہر فرخندہ بنیاد کو ملک کا دوسرا صدر مقام بھی قرار دیا جائے گا کیونکہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے یہ نظریہ پیش کیا تھا اور شہر حیدرآباد میں 1956 سے راشٹرپتی نیلائم موجود ہے اور صدر جمہوریہ ہند سال میں ایک مرتبہ موسم سرما بالخصوص ڈسمبر کے آخری ایام شہر حیدرآباد میں موجود راشٹرپتی نیلائم میں گذارتے ہیں اور اپنے قیام کے دوران ان کے تمام دفتری امور راشٹرپتی نیلائم سے ہی انجام دیئے جاتے ہیں ‘ دوسرے معنوں میں ان ایام میں راشٹری پتی بھون حیدرآباد سے خدمات انجام دیتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس موقف کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کے سلسلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے غور کیا جا رہاہے اور مرکزی وزارت داخلہ اس مسئلہ پر تجاویز حاصل کرنے لگی ہے۔ذرائع کے مطابق جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو قدم جمانے میں ہونے والے دشواریوں پر قابو پانے کے لئے مرکزی حکومت نے یہ منصوبہ تیا رکیا ہے اور اس پر عمل آوری کیلئے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریہ کا حوالہ دیاجائے گا اورکہا جائے گا کہ جنوبی ہند کے عوام کے وقار کو بلند کرنے کی سمت یہ اہم پیشرفت ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ یا ملک کا دوسرا صدر مقام قرار دیئے جانے کی قیاس آرائیوں کے دوران یہ بھی کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت اس منصوبہ پر عمل آوری کے لئے تقسیم آندھرا پردیش سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے جسٹس سری کرشنا کمیٹی کو دئیے جانے والے مکتوبات نمائندگی کا بھی استعمال کرے گی جس میں بیشتر تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے حیدرآباد کو دونوں ریاستوں کا صدر مقام بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ ان مکتوبات نمائندگی کی بنیاد پر اگر مرکزی کی جانب سے کوئی کاروائی کی جاتی ہے اور اقدامات کو یقینی بنایا جاتا ہے تو اس کے خلاف تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے احتجاج کے اشارے بھی دیئے جانے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے حیدرآباد کے متعلق کئے جانے والے اس سخت گیر فیصلہ کے سلسلہ میںکانگریس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کاروائی کرے گی اور یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی سفارش کو کانگریس نے نظر انداز کیا ہے اور جسٹس سری کرشنا کمیٹی سے سیاسی جماعتوں نے جو نمائندگی کی تھی اس کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے اگر حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بناتے ہوئے شہر حیدرآباد کو ملک کا دوسرا دارالحکومت بنایاجاتا ہے اور تنظیم جدید ایکٹ ریاست آندھرا پردیش میں ترمیم کرتے ہوئے حیدرآباد کو دونوں ریاستوں کا صدر مقام بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کے مطالبہ میں پیدا ہونے والی امکانی شدت میں کمی واقع ہوگی کیونکہ شہر حیدرآباد میں دوبارہ دونوں ریاستوں کے عوام اور سرمایہ کاروں کو ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے سرمایہ کارو ںکو مواقع حاصل ہوں گے۔کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی کے سلسلہ میں حکومت ہند کے اقدام پر وہ لوگ بھی محو حیرت ہیں جو اس بات کا چیالنج کر رہے تھے کہ کشمیر کے خصوصی موقف کو چھیڑا نہیں جا سکتا لیکن حکومت نے یہ سخت فیصلہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی عددی طاقت موجود ہے اور اس عددی طاقت کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو بھی سخت فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ حیدرآباد کے ربع و قطع کا ماہرین کی جانب سے جائزہ لینے کے بعد ہی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے یہ تجویز پیش کرتے ہوئے نظریہ دیا تھا جس کے پیش نظر صدر جمہوریہ ہند موسم سرما کے دوران ملک کے دوسرے صدر مقام میں قیام کرتے ہیں۔ حکومت ہند کی جانب سے حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ معہ دوسرا دارالحکومت بنائے جانے کے اقدامات کئے جانے کی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو آندھرا پردیش کے علاوہ تلنگانہ میں اس کے سیاسی فوائد حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے کیونکہ اس اقدام سے جنوبی ہند کے عوام کو مرکزی حکومت سے رابطہ میں سہولت اور جنوبی ہند کی ترقی کا نظریہ پیش کیا جائے گا۔ جنوبی ہند میں حیدرآباد کے انتخاب کی بنیادی وجوہات میں شہر کا ہراعتبار سے محفوظ ہونا شامل ہے ۔ حیدرآباد کے موسم‘ جغرافیائی حدود اور شہر میں موجود سہولتیں جنوبی ہند میں ملک کے دوسرے دارالحکومت کیلئے انتہائی موضوع قرار دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ افواج کو بھی کافی سہولتیں حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں موجود ہیں۔