پرانے شہر میں فٹ پاتھس پر قبضہ و تجارت کے خلاف عنقریب کارروائی
حیدرآباد۔6۔نومبر۔(سیاست نیوز) ریاستی محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے شہر کے نواحی علاقوں بالخصوص مادھاپور‘ مدینہ گوڑہ ‘ شیرلنگم پلی ‘ ہائی ٹیک سٹی اور مائنڈ اسپیس میں سیکل رانوں کے لئے خصوصی راہداری کی فراہمی کے اقدامات کرتے ہوئے دنیا کے سامنے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ حیدرآباد میں سیکل رانوں کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے لیکن اس کے برخلاف پرانے شہر میں پیدل راہرؤوں کو چلنے کے لئے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ دستیاب نہیں ہے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ شہرمیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پیدل راہرؤوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں فٹ پاتھ کی فراہمی کیلئے کئی مقامات پر فٹ پاتھ پر کئے جانے والے ناجائز قبضہ جات کو برخواست کرنے کی بڑے پیمانے پر کاروائی کے اعلانات کئے جاتے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کا حق ہے لیکن درحقیقت شہر کے بیشتر علاقوں میں دیکھا جائے تو فٹ پاتھ پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کروانے ناکام کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے سیاسی قائدین ان کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر کئے جانے والے قبضہ جات کے خلاف کاروائی کو چھوٹے بیوپاریوں کو ہراسانی قرار دے رہے ہیں جبکہ جی ایچ ایم سی کے سروے کے مطابق شہر کے فٹ پاتھ پر 80 فیصد سے زائد فٹ پاتھ سے متصل جائیداد مالکین قابض ہیں اور اپنے کاروبار کو اپنیملکیت سے آگے بڑھاکر کررہے ہیں اس کے علاوہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی سے قبل کئے گئے سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا تھاکہ فٹ پاتھ کی جگہ پر چھوٹے تاجرین مفت تجارت نہیں کر رہے ہیں بلکہ فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والے ان تاجرین سے کرایہ وصول کرنے والا مافیا بھی سرگرم ہے۔ اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فٹ پاتھ پر بنائی گئی مستقل تعمیرات کو بھی منہدم کیاجانا ضروری سمجھا جارہا ہے اور جو لوگ فٹ پاتھ کو تجارتی اغراض کے لئے استعمال کر رہے ہیں انہیں بھی منتقل کیا جا رہاہے ۔ ڈائریکٹر انفورسمنٹ ‘ ویجلنس اینڈڈیساسٹر مینجمنٹکے عہدیداروں نے بتایا کہ جن مقامات پر فٹ پاتھ پر قبضہ جات کو برخواست کیا جا تا ہے ان مقامات پر دوبارہ قبضہ کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کئے جا تے ہیں لیکن اس کے باوجود قبضوں میں کوئی کمی نہیں ہے اسی لئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے اب ایکٹ میں موجود قابضین کے خلاف فوجداری مقدمہ کی گنجائش کے مطابق مقدمات درج کرواتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے پر غور کیا جا رہاہے۔ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے شہر کے نوآبادیاتی علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات اور پرانے شہر کے ساتھ اختیار کئے گئے رویہ کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پرانے شہر سے عہدیداروں کو بغض ہے۔عہدیداروں کا کہناہے کہ پرانے شہر کے مصروف بازاروں میں موجود فٹ پاتھ پر قبضوں کی برخواستگی کے لئے عوام راضی ہیں لیکن مقامی تاجرین جو ان قبضوں میں اہم کردار رکھتے ہیں وہ خود اس کی مخالفت کرنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں پرانے کی شہر کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے لئے بلدی عہدیداروں کو مؤرد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق بلدی عہدیدارو ںکی جانب سے شہر حیدرآباد کے 80 فیصد مقبوضہ فٹ پاتھس میں اندرون ایک ماہ 50 فیصد فٹ پاتھ کو قابل استعمال بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس کے لئے مجلجی ایچ ایم سی نے شہری پولیس انتظامیہ سے مدد حاصل کرتے ہوئے پیدل راہروؤں کو فٹ پاتھ استعمال کروانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔م