شہر کے مختلف علاقوں میں نلوں سے آلودہ پانی کی شکایت

   

حیدرآباد ۔ 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) متواتر بارش کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں نلوں سے آلودہ پانی آنے کی شکایت کی جارہی ہے اور اس پانی کے باعث ہونے والے امراض جیسے ٹائیفائیڈ اور پیچش سے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ لوگوں نے شکایت کی کہ پینے کے پانی میں گندہ پانی مل رہا ہے۔ کئی علاقے جہاں آلودہ پانی آرہا ہے گاندھی نگر کالونی، مشیرآباد، مادھاپور، سری نگر کالونی، وڈیرا بستی، لنگرحوض، کنگ کوٹھی، شاہ علی بنڈہ، مغلپورہ،یاقوت پورہ ، قاضی پورہ، پرانی حویلی، حسینی علم، بہادرپورہ، تاڑبن، کشن باغ اور نواب صاحب کنٹہ کے مقامی لوگوں کے مطابق سیوریج کا پانی پینے کے پانی کی پائپ لائن میں مل رہا ہے اور اس طرح آلودہ پانی آرہا ہے۔ واٹر بورڈ عہدیداروں کی جانب سے ان علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بھی اس مسئلہ کو ابھی تک حل نہیں کیا ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں آلودہ پانی آرہا ہے۔ خیریت آباد کے ساکن پرشانت نے کہا کہ ’ہم کو آلودہ پانی مل رہا ہے اس کے استعمال کے بعد میں بیمار ہوگیا۔ دست ہونا شروع ہونے کے بعد مجھے قریبی کلینک جانا پڑا۔ لوگ اسہال سے متاثر ہورہے ہیں‘۔ متعلقہ عہدیداروں سے اس سلسلہ میں آف لائن اور آن لائن کئی نمائندگیاں کرکے شہریوں نے گندہ پانی آنے کی شکایت کی اور اس مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔اس طرح کی شکایتیں شہر کے کئی علاقوں سے کی جارہی ہیں۔ اس طرح کا پانی شہر کے زیادہ تر حصوں میں آرہا ہے بشمول نامپلی، کنگ کوٹھی، حمایت ساگر، خیریت آباد، کوکٹ پلی، مشیرآباد، ایراگڈہ، ٹولی چوکی اور پرانے شہر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ٹولی چوکی میں ندیم کالونی، ٹولی چوکی کے ساکن شیخ رحیم نے کہا کہ گذشتہ 15، 20 دن سے ایک کالونی کے تقریباً 46 مکانات میں بدبودار، آلودہ پانی آرہا ہے۔ کئی شکایتوں کے باوجود اس میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ اب ہم پانی کیلئے واٹر ٹینکرس پر انحصار کررہے ہیں‘۔ پرانے شہر کے ساکن سماجی جہدکار محمد احمد نے کہا کہ پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی مل رہا ہے اس طرح آلودہ، بدبودار پانی آرہا ہے اور یہ پانی کسی بھی کام کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آلودہ پانی سے لوگ بیمار ہورہے ہیں۔ کئی علاقوں میں نلوں سے آلودہ پانی آرہا ہے۔ عہدیدار کوئی کارروائی نہیں کررہے ہیں اور صاف پانی کی سربراہی نہیں ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے کئی علاقوں جیسے شاہ علی بنڈہ، ہمت پورہ، فتح دروازہ، حسینی علم، علی آباد، شمشیر گنج، فلک نما اور دوسرے علاقوں میں کئی دہوں سے پینے کے پانی کی پائپ لائنس کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ واٹر بورڈ کے مطابق بورڈ نے شہر میں آلودہ پینے کے پانی کی سربراہی نہ ہونے کئی اقدامات کئے ہیں۔ حکام نے کہا کہ’صاف پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے شہر میں زائد از 5 لاکہھ کلورین ٹیبلیٹ تقسیم کئے گئے ہیں۔ ہر روز شہر کے مختلف حصوں میں 15 ہزار ٹیبلیٹ تقسیم کئے جارہے ہیں‘۔