شہید اسماعیل ھنیہ کی زندگی پر ایک نظر

   

بیروت : حماس رہنما اسمیل ھنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں چہارشنبہ کو پیش آئے قاتلانہ حملے کے دوران شہید ہوگئے ہیں ۔ اسماعیل ھنیہ 1962 میں غزہ کے مغرب میں شاتی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے عزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے عربی ادب کی تعلیم حاصل کی اور وہیں سے وہ اسلامی تحریک کا حصہ بنے جب کہ 1987 میں انہوں نے اپنی گرائجویشن کی ؛گری حاصل کی ۔ حماس رہنما نے اپنی کزن امل ھنیہ سے شادی کی جس سے ان کے 13بچے تھے جن میں 8 لڑکے اور 5لڑکیاں شامل ہیں ۔ ان کے سخت بیانات کے باوجود سیاسی مبصرین و تجزیہ کار انہیں اعتدال پسند شخص کے طورپر دیکھا کرتے تھے ۔ اسرائیل کے مختلف حملوں کے دوان ان کے بیٹوں نے جام شہادت نوش کیا ہے جب کہ شہیدوں کی فہرست میں ان کے پوتے اور پوتیاں بھی شامل ہیں ۔ انہیں 2017 میں خالد مشعل کی جگہ حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا ۔