حافظ محمد عبد الصمد
حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ بیسویں صدی کے وہ عظیم مجدد اور مصلح ہیں جنھوں نے ریاست حیدرآباد دکن اور برصغیر میں دینی و سماجی شعور بیداری کیلئے ایک انقلابی کردار ادا کیا۔ آپؒ کی ہمہ جہت مجددانہ اور مصلحانہ خدمات نے نہ صرف علمی و تعلیمی میدان میں ایک نیا تاریخی انقلاب پیدا کیا بلکہ معاشرتی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعہ اسلام کی حقیقی روح کو زندہ کیا، آپؒ نے نہ صرف دینی اور مذہبی علوم کی حفاظت فرمائی بلکہ معاشرے میں پھیلی برائیوں اور غلط رسومات کی تدریجی اصلاح کر کے ملک و ملت کو ایک نئی سمت عطا کی۔ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے نزدیک تعلیم محض نوکری حاصل کرنے، ڈگریاں جمع کرنے یا مادی معاش کا ذریعہ بنانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ تعلیم کا مقصدِ اصلی عقل و فہم کی بیداری ، اخلاقی و روحانی بالیدگی اور روحِ انسانی کی تربیت تھی ۔ انہیں اعلی اور پاکیزہ تعلیمی مقاصد کی ترویج اور امت مسلمہ کی دینی و اخلاقی تربیت کیلئے حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے باشارہ سیدالمرسلین ﷺ مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی، یہ ادارہ دکن میں اسلامی تعلیم اورعلومِ شرعیہ کا ایک عظیم مرکز بن کر اُبھرا، جس نے تمام تر ناسازگار حالات کے باوجود دینی تعلیم کا پرچم بلند رکھا ۔
فرزندانِ سجادہ نشین کے علومِ ظاہری و باطنی سے بے بہرہ ہونے پر ان حضرات کو حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے جامعہ نظامیہ میں داخل فرما کر اپنی راست نگرانی میں خصوصی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کے قابل بنایا۔حضرت شیخ الاسلام ؒنے مزید کئی دینی مدارس و مکاتب کا قیام عمل میں لایا اور جو مدراس بند ہوچکے تھے اُن کا احیا فرمایا، اور مدارس کی معاشی حالت کو امداد و دیگر اوقافی ذرائع سے مستحکم فرمایا۔ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے علم و تحقیق کی ترویج کیلئے پائیدار اور عالمگیر اہمیت کے حامل ادارے قائم فرمائے۔ عوام الناس میں کتب بینی اور علم کے فروغ کیلئے ’’کتب خانہ آصفیہ‘‘قا ئم کروایا۔ نایاب اور قدیم عربی مخطوطات و کتب (مثلا: حدیث کی عظیم الشان کتاب ’’کنز العمال‘‘)کی تحقیق اور خوبصورت طباعت کیلئے عالمی ادارہ دائرۃ المعارف کی بنیاد رکھی۔ مجلس اشاعت العلوم کے زیراہتمام دینی معلومات پر مشتمل تحقیقی کتب کی اشاعت فرمائی اور سو کے قریب کتابیں شائع کی گئیں۔ ان علمی و تحقیقی اداروں سے ایسی فضا قائم ہوئی جس نے عوام و خواص میں علمی بیداری لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپؒ ایک بلند پایہ مصنف و محقق تھے۔ آپؒ کی تصانیف اسلامی علوم کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ آپؒ نے کسی گروہ سے راست تصادم کے بغیر اُمت کو اعتدال ، رواداری اور سوادِ اعظم کے راستہ پر قائم رہنے کی ہدایت فرمائی۔ آپؒ نے دینی معاملہ میں انتہا پسندی اور غلو سے بچنے کی قرآنی و حدیثی تعلیمات کوعام کیا اور کئی قیمتی کتابیں تصنیف فرمائی ۔