دونوں ملکوں کے مابین حوالگی مجرمین معاہدہ کا حوالہ ۔ وزارت خارجہ کا بیان
ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ہندوستان کو ایک سفارتی نوٹ روانہ کرتے ہوئے خواہش کی ہے کہ معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس بھیجا جائے ۔ 77 سالہ عوامی لیگ لیڈر 5 اگسٹ سے ہندوستان میں مقیم ہیں جب وہ شدید عوامی احتجاج کے دوران بنگلہ دیش سے فرار ہوگئی تھیں ۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ ڈھاکہ سے کام کرنے والے انٹرنیشنل کرائمس ٹریبونل نے شیخ حسینہ اور ان کے وزراء ‘ مشیروں اور سابق فوجی و سیول عہدیداروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جرائم و نسل کشی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک سفارتی نوٹ حکومت ہند کو روانہ کیا ہے جس میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش اپنے عدالتی عمل کیلئے شیخ حسینہ کو واپس لانے کا خواہاں ہے ۔ قبل ازیں مشیر برائے داخلہ جہانگیر عالم نے کہا تھا کہ ان کے دفتر سے وزارت خارجہ کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے تاکہ شیخ حسینہ کی حوالگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے وزارت خارجہ کو شیخ حسینہ کی حوالگی کیلئے مکتوب روانہ کیا ہے ۔ یہ عمل جاری ہے ۔ جہانگیر عالم نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مابین حوالگی مجرمین کا معاہدہ موجود ہے اور اس کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس لایا جاسکتا ہے ۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کی حوالگی کیلئے سفارتی پیام ایسے وقت میں روانہ کیا ہے جب گذشتہ دنوں معتمد خارجہ وکرم مصری نے بنگلہ دیش کا دورہ کرکے عبوری حکومت کے مشیر اعلی نوبل انعام یافتہ محمد یونس سے ملاقات کی تھی ۔ اس وقت مشیر اعلی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس ملاقات میں شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کے تعلق سے بھی بات چیت کی گئی تھی ۔