شیشہ و تیشہ

   

انورؔ مسعود
قیس بنی عامر اور لیلیٰ کی ماں !!
تیرا مردہ خدا خراب کرے
سوکھ جائے تو بید کی مانند
کبھی تیرے نصیب ہوں نہ ہرے
تو گرفتار ہو شبے میں کہیں
کوئی تیرا نہ اعتبار کرے
تو ڈکیتی میں دھر لیا جائے
دوسروں کے کئے بھی تو ہی بھرے
کسی تھانے میں ہو تری چھترول
تجھ پہ جھپٹیں سپاہیوں کے پرے
چاہے بھرکس نکال دیں تیرا
کوئی فریاد پر نہ کان دھرے
تو کچہری میں پیشیاں بھگتے
کوئی منصف تجھے بری نہ کرے
نکلے گھر سے ترے کلاشنکوف
تو پولِس کے مقابلے میں مرے
…………………………
اُتاروں جوتا…؟
٭ مشہور شاعر اختر شیرانی لاہور کے انارکلی بازار میں جوتوں کی مشہور دکان پر جوتے خریدنے گئے۔دکان دار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا۔اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا، مگر کوئی پسند نہیں آیا۔قیمتوں پر بھی اُنہیں اعتراض تھا۔
دُکاندار طنزیہ لہجے میں بولا: ’’آپ اب بھی مطمئن نہیں ہوئے…؟‘‘
اختر شیرانی ایک جوتا پہنتے ہوئے بولے: ’’بارہ روپے لیتے ہو یا اُتاروں جوتا؟‘‘
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
جان …!!
بیوی : آپ مجھے ’’رانی ‘‘ کیوں کہتے ہیں ؟
شوہر : کیونکہ ’’نوکرانی ‘‘ کہنا تھوڑا لمبا ہوجاتا ہے …!بیوی : آپ کو پتا ہے میں آپ کو ’’جان ‘‘ کیوں کہتی ہوں …!؟
شوہر : نہیں پتا …!!بیوی : کیونکہ ’’جانور ‘‘ کہنا تھوڑا لمبا ہوجاتا ہے …!!
اختر عبدالجلیل نازؔ۔ محبوب نگر
…………………………
ون ڈے رخصت …!!
٭ شاعری کا ذوق رکھنے والا ایک طالب علم برسات میں گر پڑا تو اُس نے کلاس ٹیچر کو رخصت کی درخواست اس انداز میں روانہ کی …!
رین واز فالنگ چھما چھم چھم
لگ مائی پھسلے اور گرگئے ہم
اس لئے فدوی کیان ناٹ کم
ون ڈے رخصت میں ہم
محمد امجد علی ۔ ایرہ گڈہ ، حیدرآباد
…………………………
ملتا جلتا …!!
٭ ایک مرتبہ کسی شاعر کی غزل چوری ہوگئی جو انھوں نے مشاعرہ کے لئے اُٹھا رکھی تھی ۔ انھوں نے اُس کی پرواہ کئے بغیر وہی غزل دوبارہ لکھ لی اور مشاعرہ میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص اُنھیں کا کلام سنارہا ہے ۔ شاعر صاحب جھلاگئے اور کہنے لگے ارے صاحب یہ تو میرا کلام ہے جو چوری ہوگیا تھا۔ اُس شخص نے کہا : گھبراؤ نہیں ! ہوسکتا ہے آپ کا خیال میرے خیال سے ملتا جلتا ہو…!!
خورشید جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
کیا ڈھونڈ رہے ہو …!؟
٭ میاں بیوی میں کئی دن سے بول چال بند تھی ، ایک دن شوہر دن میں موم بتی چلاکر اِدھر اُدھر کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔ بیوی بیزار ہوکر بولی دن میں موم بتی جلاکر کیا ڈھونڈ رہے ہو…؟ تو شوہر بولا تمہاری زبان ڈھونڈ رہا تھا ، مل گئی …!!
مظہر قادری ۔ حیدرآباد
…………………………
کب آنے کو کہا …!!
بیوی ( شوہر سے ) سُنوجی ! ہمارے گھر ایک کام والی بائی آئی تھی …!؟شوہر : پھر تم نے اُسے کام پر کیوں نہیں رکھ لیا…!؟
بیوی : وہ کہہ رہی تھی میں پہلے صاحب جی کو دیکھوں گی ، اُن سے بات کروں گی پھر کام پر آؤں گی …!شوہر ( خوش ہوتے ہوئے ) بیگم اُس نے بالکل ٹھیک کہا ، تو پھر آپ نے کام والی بائی کو کب آنے کو کہا …!
بیوی : بڑے ہی غصے سے ’’تمہارے مرنے کے بعد …!!‘‘
سالم جابری ۔ آرمور
…………………………