شیشہ و تیشہ

   

پاپولرؔ میرٹھی
ڈھونڈتی رہ جاؤگی …!!
تم کنواری رہ کے شوہر ڈھونڈتی رہ جاؤگی
دیکھ لینا زندگی بھر ڈھونڈتی رہ جاؤگی
جلد سے جلد اپنے گھر میں نوکری دیدو مجھے
ورنہ بے قیمت کا نوکر ڈھونڈتی رہ جاؤ گی
…………………………
ڈاکٹر مُعید جاویدؔ
چپ کہاں رہتے ہیں …!!
دودھ پانی میں مِلاتے ہیں مِلانے والے
ایسے ہوتے ہیں حقیقت میں کمانے والے
وید بیماری کا کرتے ہیں جو گوبر سے علاج
سُن کے خوش ہیں یہ خبر گُٹکے چَبانے والے
یہ مِرا ظرف ہے ، پہچان ہے یہ میرا حجاب
رُخ سے کیوں کر یہ کمینے ہیں ہٹانے والے
رفتہ رفتہ جو ہوئے سمدھی سے واقف سمدھن
دل مِلا بیٹھے یہ آپس میں لڑانے والے
دانت جبڑوں میں نہیں ایک بھی باقی لیکن
ہم نے دیکھے ہیں کئی سیٹی بجانے والے
یُوں تو کہنے کو ہیں سنگیت کے سمراٹ مگر
اپنا سنگیت ہے بہروں کو سُنانے والے
بے سُرے وہ ہیں تو کچھ ، ہم بھی کہاں کم ٹھہرے
سُن لیں! آواز میں آواز مِلانے والے
مَیں اُنھیں دیکھ کے حیران کھڑا ہوں جاویدؔ
چُپ کہاں رہتے ہیں ، چیونگم کو چبانے والے
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
نفرتی پروپیگنڈا کے اثرات
٭ میڈیا میں خبر عام ہوئی کہ بلدی انتخابات میں ایک خاتون پولنگ بوتھ پر چاقو لیکر پہنچی۔ اس خبر کی سرخی یوں تھی… ’’عادل آباد میں بلدی انتخابات کے دوران حیران کن واقعہ، ووٹ ڈالنے آئی خاتون کے پاس سے چاقو برآمد ‘‘۔
اس سرخی میں ’’حیران کن واقعہ ‘‘ پر حیرانی ہوئی کیونکہ جس ملک میں کھلے عام مردوں میں گھر گھر تلواریں تقسیم کی جاتی ہیں اور خواتین کو گھر میں سبزی کاٹنے کے چاقو کے علاوہ گردن کاٹنے کا چاقو بھی رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہو وہاں کسی عورت کا اپنے ساتھ چاقو رکھنے کی خبر میں ’’حیران کن واقعہ ‘‘ لکھنا ہمیں کچھ ’’حیران کن ‘‘ لگا…!
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
کیا ہوا …!؟
٭ دانتوں کا ڈاکٹر بہت جھنجھلایا ہوا تھا اپنی بیوی سے کہنے لگا فلاں شخص نے ابتک مصنوعی دانتوں کا بل ادا نہیں کیا ۔ مہینے گذر گئے آج تو اس سے رقم لے کر ہی لوٹوں گا ۔ شام میں گھر واپس آتے ہی بیوی نے پوچھا کیا ہوا رقم مل گئی ؟
ڈاکٹر نے کہا کیا خاک رقم ملتی کمبخت نے میرے اصرار اور تقاضہ پر برہم ہوکر میرے ہی بنائے ہوئے دانتوں سے مجھے کاٹ لیا…!!
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
ہاں ……!!
٭ ایک شخص کی اپنے دوست سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی تو اُس نے دریافت کیا : ’’کیوں بھئی ! شادی کرلی یا ابھی تک اپنے کپڑے خود ہی دھو رہے ہو؟
دوست نے درد بھری آواز میں جواب دیا : ’’تمہاری دونوں باتوں کا جواب ’ہاں ‘ہے۔
محمد امتیاز علی نصرتؔ ۔ پداپلی
…………………………
دل کا معاملہ ہے !
٭ ایک صاحب ایک محترمہ پر عاشق ہوگئے ۔ عشق اپنے پورے شباب پر پہنچ گیا ۔ وہ جب تک روزانہ ایک دوسرے سے نہ مل لیتے ان کو نیند نہ آتی تھی ۔ محبوبہ لوگوں کی نظروں کو دھوکہ دینے کیلئے اپنے عاشق کو ہر روز کسی نہ کسی نئے مقام پر پہنچنے کا وقت دیتی ، کبھی پارک میں ، کبھی ہوٹل میں ، کبھی سینما ہال میں اور عاشق اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہر روز مختلف بسیں بدل بدل کر ، انتظار میں تھک ہارکر ، لوگوں سے پتے پوچھ کر پوچھ کر بالآخر مقام ملاقات پر پہنچ جاتا ۔
ایک مرتبہ جب وہ اسی طرح تھکا ہارا محبوبہ کے پاس پہنچا تو محبوبہ بڑے رومانٹک موڈ میں تھی اور جذبہ عشق میں بولی ’’پیارے…! میرا جی چاہتا ہے کہ آج تمہیں کوئی تحفہ دوں، بتاؤ تم کیا پسند کرو گے ‘‘ ۔
عاشق تھکے ہوئے انداز میں بولا ’’مجھے تو تم صرف ایک سائیکل دلا دو !‘‘ ۔
مبشر سید ۔ چنچل گوڑہ
…………………………