شیشہ و تیشہ

   

احمد علوی
فرشی سلام !!
مشاعرے جو کراتے ہیں چندہ کر کے
اُنہیں کو صرف میں فرشی سلام کرتا ہوں
یہ لوگ مجھ کو سمجھتے ہیں شاعر اعظم
میں جاہلوں کا بہت احترام کرتا ہوں
…………………………
عبدالقدوس رضوان (شکرنگر)
ہوجائے گا …!!
لاٹری ، مئے نوشی ، جُوا مشغلہ ہوجائے گا
زندگی کا لمحہ لمحہ دغدغا ہوجائے گا
وہ الیکشن جیت کر اب آگئے ہیں فام پر
منتری کا جھونپڑا چھ منزلہ ہوجائے گا
وحشتیں ، آوارگی ، دیوانگی مت پوچھئے
’’جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوجائے گا ‘‘
مغربی تہذیب کا یہ ہے کرشمہ دیکھئے
دیکھتے ہی دیکھتے پودا ہرا ہوجائے گا
کام دفتر کے سبھی کروالیا ہے مفت میں
گر ڈوبوئے گا تو مجھ کو کیا بڑا ہوجائے گا
شعر کہنا ہر کسی کے بس میں اے رضواںؔ نہیں
کرتے کرتے شاعری تو بھی بڑا ہوجائے گا
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’بیگموں کی سیاست‘‘
٭ گزشتہ روز اخبار میں لفظ‘‘بیگموں کی سیاست’’مطالعہ میں آیا۔ اس کا سلسلہ بنگلہ دیش میں 35 سال بعد طارق رحمن کی قائم‘‘مردانہ حکومت’’سے تھا۔ پچھلے تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے بنگلہ دیش کی سیاسی باگ ڈور بیگمات کے ہاتھوں میں تھی۔
دنیا کو Gender equality (جنسی مساوات) کا سبق سکھانے والے امریکہ کے سوا دنیا کے کئی ممالک میں اقتدار کی کرسی خواتین کے قبضہ میں رہی ہے۔ اس میں جنوب مشرقی ایشیا درجہ اعلیٰ پر نظر آتاہے۔
بہر حال خواتین کا گھر سے ایوان حکومت تک اپنا اقتدار قائم رکھنا دنیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ اور دنیا کے مردوں نے خندہ پیشانی (وہ بھی جن کی پیشانی اپنے حدود کو پھیلاکر تالو سے جاملی ہے) سے قبول کیاہے۔
ہم دنیا کے شریف اور سمجھدار مردوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بلا جھجک یہ اعتراف کرتے ہیں کہ‘‘درون خانہ’’کی سیاست میں ہمیشہ سے خاتون خانہ ہی کی بالادستی رہی ہے۔ اور مرد ہمیشہ کمزور اپوزیشن کی حیثیت میں رہے ہیں۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
مگر …!!
٭ ایک سہیلی نے بتایا کہ میرے ڈاکٹر منگیتر نے منگنی توڑ دی… !
’’کیا اس نے اپنے دیئے ہوئے تحفے بھی واپس لے لئے ‘‘۔ سہیلی نے دریافت کیا
’’نہیں ۔ مگر اس نے میرے گھر (۲۰) مرتبہ آنے کی فیس کا بل بھیج دیا ہے۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
گولڈ رنگ …!!
بیوی: ساری دنیا کی بیویاں ہیرے مانگتی ہیں،میں نے تو بس ایک گولڈ رنگ مانگی تھی!
شوہر: جان من! تم تو خود سونا ہو…!
اوپر سے رنگ بھی…!؟
بیوی: واہ! آج تو تم نے دل جیت لیا…!
شوہر: اللہ کرے کل یہ پھر نہ یاد دلائے کہ رنگ کہاں ہے…!
محمد امتیاز علی نصرتؔ ۔ پدا پلی
…………………………
گدھے کے ساتھ …!
٭ ایک شخص اپنے کتے کے ساتھ گھومنے نکلا ، کچھ دوری پر اسے ایک مسخرہ مل گیا ۔ اس نے پوچھا ارے صبح صبح اس گدھے کے ساتھ کہاں جارہے ہو …؟۔
اس شخص نے خفا ہوکر کہا ، ’’اندھے ہوگئے کیا؟ یہ گدھا نہیں کتا ہے ۔
مسخرے نے کہا : ’’تم سے کون بات کررہا ہے جی ! میں تو اس کتے سے پوچھ رہا ہوں ‘‘
سید شمس الدین مغربی ۔ ریڈہلز
…………………………
کیا کروگے ؟
لڑکا ( ماں سے ) : ماں اسکول جارہا ہوں کوئی کپڑا ہو تو دے دینا ۔
ماں : اسکول میں کپڑے کا کیا کروگے ؟
لڑکا : ماسٹر صاحب نے کہا تھا کہ اگر فیل ہوجاؤ تو منہ مت دکھانا !!
سیدہ ریشماں کوثر ۔ دیورکنڈہ
…………………………