انورؔ مسعود
حجام سے ایک علم دوست کا التماس
جہاں میں دھوم مچی ہے تری مہارت کی
تْجھی کو ڈھونڈ رہا تھا میں ایک مدت سے
کچھ اس ہنر سے بنا آج تو قلم میری
جسے دوات بھی کہہ لیں بڑی سہولت سے
………………………………
شعیب علی فیصل
رفتار سست تھی …!
آج کالج مجھ کو آنے اس لئے دیر ہوئی
نوجواں اک میرا پیچھا کررہا تھا اُس گھڑی
گھورکر ٹیچر نے لڑکی سے کہا ’’پھر دیر کیوں؟‘‘
یہ کہا ’’رفتار اُس کی تو بہت ہی سست تھی‘‘
…………………………
محمد حمیدالدین ساغر
میں ایسا اچار ہوں …!
جس میں ہیں سب مسالے میں ایسا اچار ہوں
مہنگائی کے سبب سے مگر بے بگھار ہوں
اپنوں کی بے رُخی کا ازل سے شکار ہوں
جس پر چڑھے نہ پھول اک ایسا مزار ہوں
ہے معتبر وہی جو سُنے کچھ نہ کہہ سکے
تکیہ کلام جس کا رہے بار بار ہوں
ٹٹو بھی میرا آپ کے گھوڑوں سے کم نہیں
اک ایڑھ جب لگائی تو خندق کے پار ہوں
ساغرؔ یہ مُفلسی کی بدولت ہوا ہے حال
سب کچھ ہے میرا نقد مگر میں اُدھار ہوں
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
کتا گلی اور گلگوٹیا کا …!!
٭ کچھ عرصہ سے یہ خبریں اخبارات کی سرخیوں میں ہیں کہ فلاں شہر میں آوارہ کتوں نے کم سن بچوں پر حملہ کیا یا فلاں شہر میں کتوں نے راہ چلتی خواتین پر حملہ کرکے اُنھیں شدید زخمی کردیا وغیرہ۔ ان خبروں نے ارباب مجاز کو بدنام و رسوا کیا۔مگر پچھلے ایک ہفتہ سے دہلی میں منعقد ہوئی AI سمٹ میں نوئیڈا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کا پیش کردہ’’روبو ڈاگ(مشینی کتا ) ‘‘میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ گلی کے کتوں نے اپنے کتّے پن سے ملک کے کچھ شہروں کے انتظامیہ کو رسوا کیا۔ مگر یہ روبوڈاگ جسے گلگوٹیا یونیورسٹی نے اپنی تخلیق بتایا تھا، نے ہمیں بین الاقومی سطح پر رسوا کیا۔ کتوں سے متعلق دسیوں کہاوتیں بھی ہیں جن میں ایک ’’ہرکتّے کے دن بدلتے ہیں ‘‘ بہت عام ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے کتّے کے دن بھی بدلے اور وہ راتوں رات منفی ہی سہی عالمی سطح پر مشہور ہوگیا۔ یہ اس طرح ہے جیسے ’’بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
کم از کم …!
٭ مشہور شاعر محسن احسان علیل تھے۔ احمد فرازؔ عیادت کے لئے گئے۔ دیکھا کہ محسن احسان کے بستر پر کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ چادر بھی میلی تھی۔ احمد فراز نے صورت حال دیکھ کر مسکراتے ہوے محسن سے کہا : ’’یار اگر بیوی بدل نہیں سکتے تو کم از کم بستر ہی بدل دیجئے‘‘
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
کوئی بات نہیں …!
عورت ( ڈاکٹر سے ) : آپ مجھے انجکشن مت دیجئے مجھے درد ہوگا ۔
ڈاکٹر : پھر کیا کروں ، انجکشن دینا ضروری ہے
عورت : پھر تو مجھے بے ہوش کرکے انجکشن دو
ڈاکٹر : بیہوش کرنے کے لئے بھی انجکشن دینا پڑتا ہے ۔
عورت : کوئی بات نہیں ، اور دوسرا کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے …!!
شعیب علی فیصل ۔ محبوب نگر
…………………………
تمہارا موبائیل ڈبل سِم کا تو نہیں !؟
٭ شوہر نے بیوی سے محبت بھرے انداز میں کہا بیگم تم دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، میری محبت کا اندازہ تم اس بات سے لگاسکتی ہو کہ میں موبائیل ہوں اور تم میری سِم(Sim) ہو جس طرح بغیر سِم(Sim) کے موبائیل بیکار اس طرح تمہارے بغیر میں بیکار ہوں۔
بیگم نے شوہر کے محبت بھرے جملے کو سُن کر کہا: ’’تمہارا موبائیل ڈبل (دو) سِم کا تو نہیں …!!‘‘
ایم اے وحید رومانی ۔ نظام آباد
…………………………