احمد علوی
اُردو …!!
اردو اگر نہیں تو کیا ہے یہاں ہمارا
اردو کے دم سے قائم نام و نشاں ہمارا
اردو کا قورمہ اور بریانی کھا کے بولے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
…………………………
نجیب احمد نجیبؔ
دوسری کس لئے …!!
جتنی تنخواہ ملی پوری گنائی جائے
اپنے پیاروں سے تو ہرگز نہ چھپائی جائے
درد کے ماروں کو خوش خبری سنائی جائے
رسم فرسودہ جہاں بھر سے مٹائی جائے
آج یہ بات زمانے کو بتائی جائے
مال کی حرص میں دلہن نہ جلائی جائے
ایک پہلے سے موجود ہو سر پھوڑی کو
دوسری کس لئے ؟ کس واسطے لائی جائے
دیکھئے ! نیم حکیم نرس سے کیا کہتا ہے ؟
کان میں درد ہو دانتوں کی دوا دی جائے
دو کے ہندسے کا اُنھیں شوق ہوا ہے دیکھو
خیر سے ایک ہی جن سے نہ سنبھالی جائے
تیز بارش میں گزارش کی نگارش کرکے
اُن کی چھتری میں ہی چھپنے کو جگہ لی جائے
ہم کو منزل پہ پہنچنا ہے بہرحال نجیبؔ
’’آؤ اک نہر چٹانوں سے نکالی جائے ‘‘
…………………………
گندگی کے اطراف …!!
٭ ساس اور بہو ترکاری بھاجی کاٹتے ہوئے گپ شپ کررہی تھیں ، اسی دوران ایک مکھی بہو کے اطراف بھنبھنانے لگی ۔ بہو جتنا اُس کو اُڑانے کی کوشش کرتی تھی مکھی تھی کے بہو کے اطراف ہی چکر لگا رہی تھی ۔ آخرکار بہو نے تنگ آکر ساس سے کہا دیکھا آپ نے کب سے یہ غلیظ مکھی مجھے ستارہی ہے ۔ میرے اردگرد ہی گھوم رہی ہے …!
ساس نے برجستہ جواب دیا : ’’بے شک لوگ کہتے ہیں اکثر اوقات مکھی گندگی کے اطراف ہی بھنبھناتی ہے ‘‘ ۔
کوثر جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
اب شکوہ ہے گھٹتی آبادی کا …!
٭ ہندوستان کبھی ملک کی آبادی پر کنٹرول کی پرزور مہم چلاتا تھا۔ لیکن اب چین اور جاپان کی طرح ہندوستان میں بھی شرح پیدائش میں کمی کا نوٹ لیا جارہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے شمال میں وہ بھگوا قائدین جنہون نے خود شادی نہیں کی وہ سناتنیوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ جبکہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے اپنی عوام کو دُہرا مزہ لوٹنے کا موقع دیتے ہوئے ریاست میں ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی جانب سے 25 ہزار روپئے دئیے جانے کا اعلان کیا ہے۔مگر ان اعلانات پر عوام کان دھرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ ادھر روزنامہ سیاست میں شائع ایک تازہ خبر کے مطابق ریاست تلنگانہ میں گھٹتی شرح پیدائش کو ایک نئے سماجی و معاشی بحران کا پیش خیمہ بتایا گیا ہے۔
متذکرہ تمام خبروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کم بچے پیدا کرنا کسی ایک طبقہ کا نہیں بلکہ یہ رجحان ملک میں اب عام ہے۔ لہٰذا یہ رجحان ہمارے وزیراعظم کے اس انتخابی ریلی کے بیان کی نفی کرتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’کانگریس اگر اقتدار میں آئی تو آپ کا آدھا مال چھین کر اُن کو دے دیں گے جن کے زیادہ بچے ہیں ‘‘۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
میں سمجھا …!!
ایک سینئر سرجن نے آپریشن ٹیبل کو دیکھ کر حیرت سے اپنے نئے جونیر سے پوچھا ’’یہ تم نے کیسا آپریشن کیا…!؟‘‘
نئے سرجن نے چونک کر کہا ’’جی کیا یہ آپریشن تھا ؟ میں سمجھا پوسٹ مارٹم کیس ہے ‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
وٹامن She…!!
٭ مریض (ڈاکٹر سے) : میں بہت خوش رہتا ہوں، نیند سکون کی آتی ہے …!! زندگی میں امن ہی امن ہے…! ، ہر کام میں دل بھی لگتا ہے ، کوئی پریشانی نہیں ہے۔
ایسا کیوں ہے ڈاکٹرصاحب …!؟
ڈاکٹر : میں آپ کی بیماری سمجھ گیا ہوں، آپ کی زندگی میں وٹامن She کی کمی ہے۔
محمد امتیاز علی نصرتؔ ۔ پداپلی
…………………………