شیوا کمار صدر کرناٹک پردیش کانگریس نامزد

   

Ferty9 Clinic

ناراض سدارامیا گروپ کو خوش رکھنے اور داخلی اختلافات دور کرنے کی ذمہ داری

ملک کے ایک متمول ترین سیاست داں

بنگلورو 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی مشکلات دور کرنے والے ڈی کے شیوا کمار کو صدر کرناٹک پردیش کانگریس مقرر کیا گیا ہے جنھیں کرناٹک کی سیاست میں غیر اہم بنادیا گیا تھا جبکہ رقومات کی اسمگلنگ کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں اُنھوں نے تہاڑ جیل میں 50 دن گزشتہ سال میں قید رہتے ہوئے گزارے تھے۔ انھیں کئی دن کے غور و خوض کے بعد سرگرم سیاست میں واپسی کا موقع ملا جبکہ کانگریس نے انھیں کرناٹک پردیش کانگریس کا صدر نامزد کیا۔ اُنھوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ کانگریس میں تنظیم اور کارکنوں کو افراد پر فوقیت حاصل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ان کا مقصد پارٹی میں تمام کانگریسیوں کو متحد کرنا اور پارٹی کے استحکام کے لئے کام کرنا ہے۔ وہ پارٹی کے استحکام کے لئے پارٹی کے سینئر اور جونیر قائدین کو اعتماد میں لیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی نے انھیں داخلی گروہی سیاست کا خاتمہ کرنے کی ذمہ داری دی ہے اور وہ اپنے فرض کو پوری دیانت داری سے انجام دیں گے۔ سابق صدر گنڈو راؤ نے گزشتہ سال ڈسمبر میں منعقد شدنی انتخابات میں کانگریس کی انتخابی ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کے بعد انھیں صدر نامزد کیا گیا ہے۔ وہ ملک کے مالدار ترین سیاست دانوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سات میعادوں کے لئے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور تین چیف منسٹرس ایس بنگارپا، ایس ایم کرشنا اور سدارامیا کی کابینہ میں بحیثیت وزیر شامل رہنے کے علاوہ جے ڈی ایس ۔ کانگریس مخلوط حکومت کے دور اقتدار میں ایچ ڈی کمارا سوامی کابینہ میں وزیر تھے۔ شیوا کمار کے تقرر کے ساتھ کانگریس نے تین کارگذار صدور ایشور کھنڈرے، ستیش جبرکی ہولی اور سلیم احمد کو بھی نامزد کیا ہے تاکہ توازن برقرار رہے کیوں کہ وہ علی الترتیب لنگایت فرقہ، درج فہرست قبیلہ اور اقلیتی قائدین ہیں۔ سدارامیا کونسل میں کانگریس مقننہ پارٹی کا قائد اور اسمبلی میں قائد اپوزیشن برقرار رہیں گے۔ اجئے سنگھ فرزند سابق چیف منسٹر دھرم سنگھ اسمبلی میں پارٹی چیف وہپ اور ایم نارائن سوامی کو کونسل میں پارٹی چیف وہپ برقرار رکھا گیا ہے۔ مرد آہن سدارامیاسبکدوش ہوجائیں گے۔ شیوا کمار کو سدارامیا کے شاکی گروپ کو خوش رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ توقع ہے کہ وہ پارٹی قائدین کو متحد رکھیں گے۔