صدارتی الیکشن، کے سی آر یکا و تنہا، کانگریس اور ترنمول سے ناراض

   

شرد پوار نے ٹی آر ایس کو اتحاد میں شامل کرنے کی سفارش کی، الیکشن کے بائیکاٹ سے بی جے پی کو فائدہ
حیدرآباد۔/21 جون،( سیاست نیوز) صدارتی الیکشن کیلئے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے مسئلہ پر دہلی میں جاری سرگرمیوں سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہے۔ وہ اپوزیشن کے امیدوار کے نام کا انتظار کررہے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اپنی حکمت عملی طئے کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ این سی پی سربراہ شرد پوار چاہتے تھے کہ مشترکہ امیدوار کی مساعی میں کے سی آر کو شامل کیا جائے لیکن کانگریس اور ترنمول کانگریس نے مخالفت کی جس کے نتیجہ میں کے سی آر اپوزیشن کی سرگرمیوں سے دور ہوگئے۔ ملک میں اپوزیشن اتحاد کیلئے صدارتی الیکشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ابھی تک دو قائدین نے صدارتی امیدوار بننے سے انکار کردیا ہے۔ شرد پوار اور سابق گورنر مغربی بنگال گوپال کرشنا گاندھی کو صدارتی امیدواری کا پیشکش کیا گیا تھا لیکن دونوں نے عدم دلچسپی ظاہر کی۔ ٹی آر ایس کے ذرائع کے مطابق شرد پوار نے اپوزیشن کے رویہ کے نتیجہ میں خود کو مقابلہ سے علحدہ کرلیا۔ وہ چاہتے تھے کہ کے سی آر کو بھی محاذ میں شامل کیا جائے تاکہ اپوزیشن کے ووٹ مستحکم رہیں۔ کے سی آر کی علحدگی کی صورت میں اپوزیشن کے پاس اپنے امیدوار کو کامیاب بنانے کیلئے درکار اکثریت حاصل نہیں ہے لہذا شکست کیلئے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ شرد پوار نے جن وجوہات کے سبب خود کو الیکشن سے دور کرلیا ان میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کا یکطرفہ رویہ شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شرد پوار چاہتے تھے کہ کے سی آر کو اپوزیشن کے اجلاس میں مدعو کیا جائے۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کے مطابق صدارتی الیکشن کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور اپوزیشن کے فیصلہ کے بعد ہی ٹی آر ایس اپنے موقف کا اعلان کرے گی۔ غالب امکان ہے کہ کے سی آر صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کریں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کے سی آر کے بائیکاٹ کی صورت میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو فائدہ ہوگا۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی اور اوڈیشہ کے چیف منسٹر نوین پٹنائیک این ڈی اے امیدوار کی تائید کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف کے سی آر نے قومی سیاسی پارٹی کے قیام کی سرگرمیوں کو روک دیا ہے تاکہ صدارتی انتخابات کے بعد ہم خیال اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی جاسکے۔ صدارتی چناؤ کے عمل کا 15 جون سے آغاز ہوچکا ہے اور پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کی آخری تاریخ 29 جون ہے۔ ایک سے زائد امیدوار کی صورت میں 18 جولائی کو رائے دہی ہوگی اور 21 جولائی کو نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ر