احتجاجی ٹرپل آئی ٹی طلبہ سے ملاقات کی اجازت نہیں، کانگریس صدر نے پیدل اور ٹریکٹر پر سفر کیا
حیدرآباد۔17۔ جون (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو نرمل میں ٹرپل آئی ٹی کے احتجاجی طلبہ سے ملاقات سے قبل پولیس نے حراست میں لے لیا۔ گزشتہ تین دن سے طلبہ بنیادی سہولتوں کے مسئلہ پر احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبہ سے اظہار یگانگت اور احتجاج میں حصہ لینے کے لئے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی آج باسر روانہ ہوئے ۔ پولیس نے انہیں یونیورسٹی پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سیاسی قائدین کو طلبہ سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تھیں اور ریونت ریڈی کے قافلہ کو روک دیا گیا ۔ ریونت ریڈی نے پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وہ طلبہ سے ملاقات کر نا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی۔کیمپس میں داخلہ کی کوشش پر ریونت ریڈی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ ریونت ریڈی اپنی کار سے اتر کر جنگل کے راستہ کیمپس پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، پولیس نے انہیں دیکھ لیا اور راستہ روک دیا ۔ پولیس سے بچتے ہوئے ریونت ریڈی کچھ فاصلہ تک ٹریکٹر کے ذریعہ سفر کرنے میں کامیاب رہے۔ پولیس کے رویہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ جمہوری انداز میں اپوزیشن کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرپل آئی ٹی کے طلبہ گزشتہ 4 دن سے ناقص سہولتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاجی طلبہ کی توہین کی ہے۔ اسی دوران کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے ٹوئیٹر پر ٹرپل آئی ٹی طلبہ کے احتجاج کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی یونیورسٹی آف نالج ان ٹکنالوجی کے طلبہ کے مطالبات کا مذاق اڑانا وزیر تعلیم کو زیب نہیں دیتا ۔ چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ تحریک میں طلبہ کے رول کو فراموش کرچکے ہیں۔ طلبہ کے مسائل کو فوری حل کیا جانا چاہئے ۔ غرور اور تکبر کا شکار کے سی آر کو طلبہ کی طاقت کو کمزور سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ کانگریس پارٹی طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے ریونت ریڈی کو یونیورسٹی کے دورہ کی ہدایت دی۔ر