صدیق کپن کو ضمانت

   

Ferty9 Clinic


کیرالا سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن کو بالآخر سپریم کورٹ سے ضمانت منظور کردی گئی ہے ۔ صدیق کپن گذشتہ تقریبا دو سال سے جیل میں تھے ۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی سرگرمیاں قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس کیس میں عدالت میں چارچ شیٹ پیش کردی گئی تھی لیکن صدیق کپن کے خلاف کوئی الزامات وضع نہیں کئے گئے تھے ۔ صدیق کپن کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اترپردیش کے ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کی عصمت ریزی کے کیس کی رپورٹنگ کرنے کی کوشش کی تھی ۔متاثرہ لڑکی کیلئے انصاف کو یقینی بنانے کی جدوجہد کی تھی ۔ ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت ریزی اور پھر اس کی ہلاکت اور راتوں رات اس کی آخری رسومات ادا کردئے جانے کے نتیجہ میں سارے ملک میں برہمی کی لہر پیدا ہوگئی تھی ۔ کئی سیاسی قائدین نے بھی ہاتھرس کا دورہ کیا تھا ۔ کئی قائدین کو وہاں جانے سے روک دیا گیا تھا ۔ کئی صحافیوں نے بھی اس واقعہ کی رپورٹنگ کی تھی ۔ صدیق کپن بھی اس واقعہ کی رپورٹنگ کیلئے ہاتھرس جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ راستے ہی سے انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ ان کے خلاف سخت گیر انسداد دہشت گرد سرگرمیاں قانون کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ وہ گذشتہ دو سال سے جیل میں تھے لیکن انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی تھی ۔ سپریم کورٹ نے آج انہیں ضمانت منظور کی ۔ ان پر کچھ شرائط عائد کی ہیں تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کو اظہار خیال کی آزادی ہونی چاہئے ۔ عدالت کا یہ تبصرہ مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کیلئے اہمیت کا حامل ہونا چاہئے کیونکہ ایجنسیاں اور حکومت کی جانب سے ہر مخالف کو کسی نہ کسی طرح سے جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو غدار قرار دیا جارہا ہے ۔ قوم دشمن قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ حکومت کے خلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کو تحقیقاتی ایجنسیوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جو لوگ خوفزدہ نہیں ہو رہے ہیں انہیں کئی طرح کے مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ جیلوں میں طویل وقت گذارنے کے باوجود بھی بیشتر کو ضمانت نہیں مل رہی ہے ۔
بیشتر مقدمات جو درج کئے جا رہے ہیں ان میں ملزمین کی ضمانتوں کے معاملے میں عدالتوں سے مرکز اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو سرزنش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کئی معاملات میں عدالتوں نے جو ریمارکس کئے ہیں ان کا بھی حکومت اور ایجنسیوں کی جانب سے نوٹ نہیں لیا جا رہا ہے ۔ عدالتی کارروائی میں خلل اور رخنہ اندازی کی کوششیں ضرور ہو رہی ہیں اور ساری توجہ اس بات پر مرکوز کی جا رہی ہے کہ ان ملزمین کو عدالتوں سے ضمانت نہ ملنے پائے ۔ چارچ شیٹ کی پیشکشی میں طویل وقت لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمین کی جیلوں میں موجودگی کو طوالت دی جائے ۔ اس طرح کی صورتحال میں عدالتیں جو ریمارکس کر رہی ہیں وہی ملزمین اور مل کے عوام کیلئے قدرے راحت کا باعث ہیں ۔ عدالتوں نے تحقیقاتی ایجنسیوں یہ تاکید بھی کی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کریںا ور حکومتوں کی کٹھ پتلی نہ بن جائیں۔ جہاں تک صدیق کپن کی بات ہے تو ان کے خلاف ملک کے قانون کا انتہائی بیجا استعمال کیا گیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ۔ آج ملک کی عدالت عظمی نے کہا کہ ہر کسی کو اظہار خیال کی آزادی ہونی چاہئے اور جہاں تک احتجاج کی بات ہے تو احتجاج کبھی کبھار ضروری بھی ہوتا ہے ۔ احتجاج ہی کی وجہ سے عصمت ریزی سے متعلق قوانین میں تبدیلی آئی ہے ۔ یہ در اصل نربھئے کیس کا حوالہ تھا جس میں سارے ملک میں احتجاج ہوا تھا جس کے بعد عصمت ریزی کے مقدمات سے نمٹنے سخت ترین قانون سازی کی گئی تھی ۔
حکومت کو اس بات کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے کہ احتجاج کبھی کبھار ضروری ہوا کرتا ہے اور احتجاج ہی کی بدولت متاثرین کو راحت پہونچانے کیلئے حکومتیں توجہ دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ جہاں تک صدیق کپن کی بات ہے تو انہوں نے بھی ایک دلت لڑکی کے ساتھ ہوئی غیرانسانی حرکت کی رپورٹنگ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کیلئے انصاف کو یقینی بنانے کا ارادہ کیا تھا ۔ اس پر ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق سخت ترین قانون کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا تھا ۔ حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوںکو ایسی کسی حرکت سے باز رہنے کی ضرورت ہے جس سے انہیں عدالتی سرزنش سہنی پڑے اور متاثرین انصاف سے محروم رہیں۔