ممبئی : مانسون کے بعد جب موسم تبدیل ہوتا ہے تو اکثر لوگ بیمار ہونے لگتے ہیں ۔ ایک طرف کئی لوگوں کو بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے جہاں فلو ہوجاتا ہے ، وہیں ان کے بیمار ہوجانے کے پیچھے یہ وجہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا مدافعتی نظام اچھا نہیں ہوتا ۔ اسی لئے وہ بلدتے موسم کے اثرات کا جلد شکار ہوجاتے ہیں اور بیماریاں انہیں جلدی اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں ۔ پھر انہیں ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے اور دواؤں کا سہارا لے کر وہ ٹھیک ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ چونکہ اکثر دواؤں کے سائڈ افیکٹس( ضمنی اثرات) بھی بہت ہوتے ہیں ۔ لہذا انہیں استعمال کرتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے ۔ اسی طرح مدافعتی نظام کو بہتر کرنے کیلئے بھی وٹامنس پر مشتمل سپلمنٹ کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ممبئی کے ایک ہاسپٹل میں بطور چیف ڈائٹریشن کام کرنے والی دلناز کا کہنا ہے کہ اچھا مدافعتی نظام انسان اس وقت تشکیل دے سکتا ہے جب وہ غذائیت سے بھرپور کھانے کھاتا ہے ۔ کھانے اور مدافعتی نظام کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہوتا ہے ، انسان جو کھاتا ہے وہ اس کے مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتاہے ۔ اگر انسان کا مدافعتی نظام اچھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی غذا ہے ۔ اگر اس کا مدافعتی نظام کمزور ہے تو پھر اسے متوازن غذا کے استعمال کی ضرورت ہے ۔پہلے زمانے میں لوگ کچن میںموجود چند اجزاء کو استعمال کرتے ہوئے فلو اور مدافعتی نظام سے بچنے کیلئے قہوے بناتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحت مند بھی رہتے تھے اور ان کا مدافعتی نظام بھی بہترین ہوتا تھا ۔ ہلدی ، کالی مرچ اور زیرہ دیکھنے میں چھوٹے سے اجزاء ہیں جوروزمرہ کے کھانوں کو ذائقہ دار اور خوشبوار بناتے ہیں ۔ یہ اجزاء دیکھنے میں سادہ سے ضرور ہیں تاہم ان کی افادیت جادوئی ہے ۔ کالی مرچ دراصل اینٹی بیکٹریل رکھتیہے یعنی جراثیم کے خلاف جسم کو مزاحمت کی طاقت فراہم کرتی ہے ۔ اس میں وٹامن سی بڑی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ۔