اسمبلی میں کے ٹی آر کا سوال، معاشی ترقی میں تلنگانہ کو ملک میں چوتھا مقام
حیدرآباد۔10۔ مارچ (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے، ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ اسمبلی میں مطالبات زر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ہم صرف نعرے لگانے پر یقین نہیں رکھتے۔ ڈیجیٹل انڈیا ، میک ان انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسی طرح کے کئی نعرے بی جے پی نے لگائے تھے لیکن ان کے حق میں پالیسی تیار نہیں کی گئی۔ کورونا کی صورتحال میں ہندوستان میں کئی صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ مرکز نے آتما نربھر اسکیم کے تحت 20 لاکھ کروڑ پیاکیج کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجہ میں توقع کی گئی کہ صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔ مرکز کا پیاکیج کہاں گیا کوئی نہیں جانتا۔ یہ صرف محض زبانی باتیں تھیں ۔ میری معلومات کے مطابق مرکز کی اسکیم سے کسی ایک صنعت کو فائدہ نہیں پہنچا۔ بی جے پی کی باتیں محض جملہ بازی اور بوگس بیانات ہیں۔ تلنگانہ ملک کی نئی ریاست ہونے کے باوجود ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ آر بی آئی رپورٹ کے مطابق معاشی شعبہ میں تلنگانہ دیگر ریاستوں سے بہتر ہے۔ آبادی کے اعتبار سے تلنگانہ ملک کی بارھویں بڑی ریاست ہے لیکن ملک میں معاشی ترقی کے اعتبار سے تلنگانہ چوتھے نمبر پر ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں انفرادی آمدنی دو لاکھ 78 ہزار ہے جبکہ جی ایس ڈی پی 11 لاکھ 57 ہزار کروڑ درج کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تیزی سے ترقی کرنے والی کوئی اور ریاست نہیں ہے لیکن بعض افراد کو یہ برداشت نہیں۔ تلنگانہ کی ترقی سے کئی لوگوں کی آنکھیںلال ہورہی ہیں۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ ترقی سے وہ سیاسی زوال کا شکار ہوجائیں گے ۔ ر