صنعتی پیداوار میں کمی اور افراط زر

   

Ferty9 Clinic

حکومت کی جانب سے معیشت کے بحال ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور یہ بھی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ وقتوں میں ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دوسرے ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گی ۔ تاہم کورونا وباء کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اب مہنگائی کی وجہ سے مزید بگڑتی نظر آنے لگی ہے ۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ اس معاملے میں صحیح اعداد و شمار ظاہر نہیں کئے جا رہے ہیں اور صرف زبانی دعووں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن حقیقی صورتحال ان دعووں کے برعکس نظر آتی ہے ۔ ماہ ستمبر کے جو سرکاری اعداد و شمار ظاہر کئے گئے ہیں اس میں دو منفی پہلو رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ صنعتی پیداوار میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ۔ صنعتی پیداوار کو معاشی سرگرمیوں کی تیزی اور شدت سے جوڑا جاتا ہے تاہم ماہ ستمبر میں صنعتی پیداوار میں کمی آئی اور افراط زر کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ فیول قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اس کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کے نتیجہ میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری جانب صنعتی پیداوار میں جو گراوٹ آئی ہے اس کی کوئی مخصوص وجہ نہیں بتائی گئی ہے تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ ماہ اگسٹ میں صنعتی پیداوار کی شرح 12 فیصد تک بڑھی تھی جس میں ماہ ستمبر میں گراوٹ آئی ہے اور یہ 3.1 فیصد ہی رہ گئی تھی ۔ اس طرح سے معاشی پیداوار میں کمی کی وجہ سے عوام کی معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے لگا ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہری علاقوں میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے ہی عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے کیونکہ مارکٹوں میں طلب میں کمی آئی ہے اسی لئے کمپنیوں اور صنعتوں میں پیداوار کو کم کردیا گیا ہے ۔ اس کمی کا ملازمین پر بھی اثر ہونا لازمی ہے اور اگر ملازمین کی تخفیف کی جاتی ہے یا ان کی تنخواہوں میں بحیثیت کی نسبت سے کمی کی جاتی ہے تو ان کی قوت خرید میں مزید کمی آتی ہے ۔ا س کے علاوہ اشیائے ضروریہ اور فیول قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بھی عام زندگی بہت زیادہ متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ حکومت اس بات کا اعتراف نہیں کر رہی ہے ۔
حکومت کے ذمہ داران اور خاص طور پر وزیر فینانس کی جانب سے بارہا یہی تیقن دیا جا رہا ہے کہ ملک کی معیشت میں بہت جلد بہتری آئے گی اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا تاہم اس کیلئے کسی منصوبے یا مخصوص پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ وہ اقدامات بھی نہیں کئے جا رہے ہیں جو صنعتی پیداوار میں بہتری لانے اور معیشت کو بحال کرنے کیلئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں میں حکومت نے دیوالی کے تحفہ کے طور پر پٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل اکسائز میں کمی لائی ہے اور اس کے بعد کچھ ریاستوں میں بھی ریاستی سطح کے محاصل اور ویاٹ میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ اقدام خود بھی ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی و ریاستی محاصل میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کردیا گیا ہے اور اسی کین تیجہ میں بازاروں میں فروخت کا عمل متاثر ہوا ہے ۔ عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے ۔ اب عوام کے سامنے ضروریات زندگی کی دوسری اشیاء کی بہ نسبت صرف دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ہی اصل مسئلہ رہ گیا ہے ۔ دیگر ضروریات کی تکمیل کو ٹالا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ مہنگائی کا نتیجہ ہے ۔ جہاں فیول کی قیمتوں کی وجہ سے عوام پر بوجھ عائد ہوا تھا وہیں فیول قیمتوں کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اسی کے نتیجہ میں عوام کی مشکلات دوگنی ہوگئی ہیں اور افراط زر کی شرح میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ یہ دوہری مشکل اور پریشانی کی بات ہے کہ صنعتی پیداوار کم ہوئی اور افراط زر کی شرح بڑھی ہے ۔
حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی سے اور موثر حکمت عملی کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف بیان بازیوں کے ذریعہ معیشت کو سدھارا نہیںجاسکتا ۔ ایک اچھی تصویر پیش کرتے ہوئے حقائق سے نظریں چرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ عوام کو راحت پہونچانے اور ملک کی ترقی کی رفتار کو بحال کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجہ میں جہاںصنعتی پیداوار میںاضافہ ہو وہیںمہنگائی پر قابو پایا جاسکے ۔ افراط زر کی شرح کو کنٹرول کیا جاسکے اور ملازمتوں اور روزگار کی فراہمی یقینی ہو پائے ۔ جامع حکمت عملی کے تحت ہی معاشی صورتحال کو سدھارنے کیلئے پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے ۔