واشنگٹن۔25 ستمبر (ایجنسیز) امریکہ کی جانب ضبط کیے گئے تین ایرانی آئل ٹینکرز تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل لے کر بحرِ اوقیانوس کے راستے امریکہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ان تیل بردار جہازوں میں موجود خام تیل کی مجموعی مالیت تقریباً 60 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔اگرچہ تینوں ٹینکرز کے ٹرانسپونڈرز پر اس وقت امریکہ کو منزل کے طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم تیل بردار جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے بتایا ہے کہ یہ جہاز امریکہ کی سمت سفر کر رہے ہیں۔ میری ٹائم ڈیٹا پلیٹ فارم ’کپلر‘ کے اعداد و شمار بھی ان جہازوں کی بحرِ اوقیانوس کی جانب پیش قدمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ان تین ٹینکرز میں مجیسٹک ایکس، ٹفانی اور لینور شامل ہیں۔ کپلر کے مطابق مجیسٹک ایکس نے 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران مختصر مدت کیلئے اپنی منزل امریکہ ظاہر کی تھی، جب وہ ملائیشیا کے قریب سے بحرِ اوقیانوس کی سمت بڑھ رہا تھا۔مجیسٹک ایکس اور ٹفانی اس وقت برازیل کے شمالی ساحل کے قریب موجود ہیں۔ دونوں جہازوں کو اپریل میں ایران سے تیل لوڈ کرنے کے بعد امریکہ نے قبضے میں لیا تھا۔ اس وقت ان کے ٹرانسپونڈرز پر بالترتیب چین اور سنگاپور کو منزل کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔تیسرا ٹینکر لینور منگل کے روز جنوبی افریقا کے قریب ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ کے راستے بحرِ اوقیانوس میں داخل ہوا۔ کپلر کے مطابق اسے جون کے آغاز میں بحرِ ہند سے امریکہ نے قبضے میں لیا تھا۔ اس وقت اس کی منزل ظاہر نہیں کی گئی تھی۔تینوں جہاز امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کیلئے عائد کی گئی ہیں۔ ان ٹینکرز کی موجودہ نقل و حرکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں جاری کشیدگی نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔