دھوپ کی شدت اور رات کے کرفیو پر تاجرین کا غور و خوص
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے رات کے کرفیوکے نفاذ کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف اضلاع کے تاجرین نے اپنی حکمت عملی کی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے سحر کے بعد فجر اور فجر کے ساتھ ہی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ دو یوم کے دوران ریاست تلنگانہ کے بیشترتمام اضلاع میں موجود سرکردہ بازارو ں میں تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے صبح کی اولین ساعتوں میں کاروبار شروع کرنے اور ظہر سے قبل ہی کاروبا ر کو بند کردینے پر غور کیا جا رہاہے اور اس سلسلہ میں مشاورت جاری ہے۔حکومت تلنگانہ نے ریاست میں کورونا وائر کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ریاست بھر میں رات 9بجے سے صبح5 بجے تک کے کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے ساتھ ہی ریاست میں تجارتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے رات کے کرفیو کے نفاذ کے فیصلہ کے ساتھ ہی تجارتی برادری کی جانب سے صبح فجر کے فوری بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تاکہ ریاست میں کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور ماہ رمضان المبارک کے دوران خریداری کرنے والوں کی مشکلات کو بھی دور کیا جاسکے۔ تاجرین کا کہناہے کہ موسم گرما کی شدت کے سبب عام طور پر شام کے وقت ہی گاہک بازار میں نظر آرہے تھے لیکن اب حکومت کی جانب سے رات کے کرفیو کے فیصلہ کے بعد تجارتی برادری کی جانب سے فجر تا ظہر کے درمیان ہی تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے سلسلہ میں غور کیا جانا چاہئے کیونکہ فجر کے فوری بعد اگر گاہک بازاروں میں نکلنے لگ جائیں اور ظہر تک تجارتی سرگرمیوں کی انجام دہی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں تاجرین کو کئی فائدے حاصل ہوں گے جن میں برقی بچت کے علاوہ گرمی کے شدت اختیار کرنے سے قبل واپس گھروں میں رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاہک جو کہ دھوپ کے سبب شام یا رات کو خریداری کے لئے نکلاکرتے تھے اگر وہ صبح کی اولین ساعتوں میں ہی خریداری مکمل کرلیتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ بھی دھوپ کی شدت سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بھی اگر تاجرین کی جانب سے صبح کی اولین ساعتوں میں تجارتی سرگرمیوں کے رجحان کو فروغ دیا جاتا ہے تو ایسی صور ت میں ماہ رمضا ن المبارک کے کاروبار متاثر نہیں ہوں گے بلکہ صبح کی اولین ساعتوں کے دوران تجارتی سرگرمیوں کی انجام دہی اور دھوپ کے وقت آرام کے نظریہ کو فروغ دیئے جانے کی صورت میں کئی اضافی اخراجات پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے ۔تاجرین پارچہ کا کہناہے کہ اگر بازار میں تمام تاجرین کی جانب سے متفقہ طور پر فجر تا ظہر تجارتی سرگرمیاں انجام دینے اور اس کے بعد کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے کافی فائدے حاصل ہوں گے جن میںرات کے اوقات کے علاوہ دوپہر میں برقی کے استعمال میں ہونے والے اضافہ سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔