ضلع نرمل کے 5 مواضعات کے کسانوں کا قومی شاہراہ پر مہادھرنا

   

کلکٹر، ایس پی ،آر ڈی او و دیگر کے تیقنات بے فیض، عوامی قائدین کے خلاف بھی نعرے بازی

نرمل /27 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نرمل ضلع کے منڈل دلاورپور میں کسی تخم کی فیاکٹری کا کام گذشتہ حکومت کے دور سے جاری ہے جس میں اس علاقہ کے کئی کسانوں کی زمین موجود ہے۔ اس فیاکٹری کی وجہ سے کسانوں نے فیاکٹری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناتے ہوئے کئی دنوں سے پوری شدت کے ساتھ اس منڈل کے پانچ مواضعات کے کسان اور عوام احتجاج کر رہے تھے ۔ تاہم کل رات سے یہ تمام دیہی عوام نے بھینسہ قومی شاہراہ پر مہا دھرنا کے نام سے ہزاروں کی تعداد میں دھرنا دیا اور آر ڈی او نرمل کا گھیراؤ کیا ۔ پولیس کافی جدوجہد کے بعد آر ڈی او رتنا کلیانی کو اس ہجوم سے بحفاظت نکالا جبکہ بڑے پیمانے پر پولیس فورس کے بعد بھی کسان خاموش نہیں بیٹھ رہے تھے ۔ ضلع کلکٹر نرمل ابھیلاش ابھنیو نے بھی کچھ ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے تیقن دیا کہ وہ وزیر اعلی کے علم میں یہ حالات لاچکے ہیں۔ تاہم اب بھی احتجاج کرنے والے تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔ ضلع ایس پی ڈاکٹر جانکی شرمیلا آئی پی ایس خود صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجیوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کوئی پرتشدد کارروائی نہ کرے ورنہ قانون سختی سے نمٹ سکتا ہے۔ حالات بے قابو ہیں دلاوریو منڈل کے پانچ مواضعات کے ہزاروں افراد سڑک پر رات سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جبکہ کسی بھی جماعت کا کوئی بھی سیاسی قائد وہاں ابھی تک نہیں پہونچا ۔ اس وجہ سے احتجاجیوں نے اپنے ہاتھ میں سیاسی قائدین رکن اسمبلی منوہر ریڈی سابق وزیر اے اندرا کرن ریڈی صدر ضلع کانگریس کے سری ہری راؤ کی تصاویر ہاتھوں میں تھامے کہہ رہے ہیں ۔ یہ قائدین کدھر ہے دیکھنا ہے ضلع کلکٹر ان کسانوں کو دھرنا ختم کرانے میں کیا قدم اٹھاتی ہیں ۔یہ پہلا موقع ہے کہ مہادھرنا میں اسکول کے معصوم بچوں نے بھی حصہ لیا ۔ اس منڈل کے عوام کا کہنا ہے کہ یہاں فیاکٹری کی تعمیر سے انسانی زندگی پر مضر اثرات بھی پڑسکتے ہیںاور قیمتی اراضیات کے نقصان کا بھی خدشہ یہاں کے کسان محسوس کر رہے ہیں ۔ تادم تحریر احتجاج جاری ہے ۔