طاقت اور انتقام کی سیاست

   

Ferty9 Clinic

احباب کے خلوص سے جب واسطہ پڑا
شیشہ تو میں نہیں تھا مگر ٹوٹنا پڑا
بی جے پی جب سے مرکز اور ملک کی مختلف ریاستوں میں برسر اقتدار آئی ہے اس نے مخالفین کو طاقت سے کچل دینے کا طریقہ اختیار کیا ہوا ہے ۔انتقام کی سیاست کو عام کردیا گیا ہے ۔ جو کوئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے ۔جو کوئی حکومت کی ناکامیوںکا پردہ فاش کرے ۔ جو کوئی حکومت سے سوال کرے اس کو مقدمات کا شکار کرکے جیل بھیج دینا حکومت کی عادت بن گئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے تنقیدوں کو برداشت کرنے کا سلسلہ منقطع کردیا گیا ہے اور اس معاملے میںتلوے چاٹو اینکرس کی جانب سے بھی سرگرم رول ادا کیا جارہا ہے ۔ تلوے چاٹو اینکرس کسی بھی مسئلہ پر حکومت سے سوال پوچھنے کی بجائے اپوزیشن سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ اپوزیشن کے اقتدار کا حساب کتاب پوچھ رہے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کو مرکز میں برسر اقتدار آئے آٹھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ مرکزی حکومت ہو یا پھر مختلف ریاستوں کی حکومتیں ہو ں سبھی نے ایک نکاتی ایجنڈہ اختیار کرلیا ہے ۔ جو کوئی حکومت سے سوال کریگا یا حکومت پر تنقید کریگا یا حکومت کی ناکامیوں اور ڈوغلی پالیسی کو عوام کے سامنے آشکار کریگا اس کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے اورانہیں جیلوں میں بھیج دیا جائیگا ۔ عام آدمی ہو یا پھر سماجی جہد کار ہوں ایسے درجنوں لوگ ہیں جو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے پر مجبور ہیں اور کئی کئی مہینوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ جو اینکرس تلوے چاٹنے میں ماہر ہیںوہ ٹھاٹھ کی زندگی گذار رہے ہیں لیکن صدیق کپن جیسے صحافی جب کسی مسئلہ پر حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں توا نہیں گرفتار کرتے ہوئے کئی مہینوں سے جیل میںرکھا جاتا ہے ۔ عمر خالد اس کی مثال ہیں۔ بے شمار دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جبکہ کھلے عام بندوق اور ریوالور لہرانے والوں کو اور مساجد کی بیحرمتی کرنے اور ان پر بھگوا جھنڈا لہرانے والوںکو کھلا اور آزاد چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اب تو سیاسی قائدین کے خلاف بھی اسی طرح کی روش عام ہوتی جا رہی ہے ۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی لیڈر اعظم خان اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ان کا جرم یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے کام کر رہے تھے ۔
اب گجرات کے رکن اسمبلی جگنیش میوانی کو آسام کی پولیس یکے بعد دیگر مقدمات میں گرفتار کرنے لگی ہے ۔ جگنیش میوانی کا جرم بھی یہی تھا کہ انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس پر آسام میں ان کے خلاف ایک مقدمہ درج ہوا اور جیل بھیج دیا گیا جب آج انہیں عدالت سے ضمانت مل گئی تو انہیں دوسرے کیس میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ۔ ابھی یہ واضح تک نہیں کیا گیا کہ ان کے خلاف دوسرا کیس کونسا ہے جس میں ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔ یہ سارا کچھ انتقامی جذبہ ہے اور جمہوری اصولوںکو کھوکھلا اور داغدار کرنے کی کوشش ہے ۔ جمہوریت میں حکومت سے سوال پوچھنے ‘ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے اور حکومت سے سوال پوچھنے کا مکمل اختیار ہر کسی کو دیا گیا ہے ۔ تاہم بی جے پی اور اس کی حکومتیں عوام سے اور حد تو یہ ہے کہ سماجی جہد کاروں ‘ صحافیوں اور اپوزیشن کے سیاسی قائدین سے بھی یہ حق چھیننا چاہتی ہیں۔ کسی کو بھی حکومت سے سوال کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتیں اور نہ ہی جو سوال عوام کے ذہنوں میں پیدا ہورہے ہیں ان کا کوئی جواب حکومت دینا چاہتی ہے ۔ بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سوالات کے جواب حکومت کے پاس ہیں ہی نہیں۔ حکومت اسی جواب دہی سے بچنے کیلئے طاقت اور انتقام کی سیاست پر عمل کر رہی ہے۔ اس کے ذریعہ وہ سوال پوچھنے والوں اور اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے ۔
جہاں تک سوال پوچھنے اور حکومت کے عتاب کا شکار ہونے کی بات ہے تو یہ جمہوریت کا حصہ ہے اور اس کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ یہ عوام کا ‘ جہد کاروں کا ‘ صحافیوں کا اور اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ حکومت کی ناکامیوںکو پردہ فاش کرے ۔ اس سے سوال کرے ۔ اس کے غلط اقدامات پر اسے تنقید کا نشانہ بنائے ۔ یہی ہماری جمہوریت ہے اور جمہوریت میں یہ مکمل اختیار دیا گیا ہے ۔ حکومت کا بھی ذمہ ہے کہ وہ تعمیری تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرے اور جو سوال اس سے کئے جا رہے ہیں ان کا جواب دیا جائے ۔ اس کے برخلاف طاقت اور انتقام کی سیاست اختیار کرنے سے گریز کیا جاناچاہئے کیونکہ یہ ہندوستانی سیاست کی روایات اور ملک کے جمہوری اصولوں کے یکسر مغائر عمل ہے ۔