طاقت کا استعمال ‘تحمل کیوں نہیں ؟

   

شبنمی سبز لبادوں سے مہک آئی ہے
خاک و خوں توڑ ہی دیں گے کبھی دیرینہ خمار
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں جاری احتجاج کے دوران حکومت کی جانب سے صرف اور صرف طاقت کا استعمال کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ کہیں احتجاجیوں کو گھروں سے اٹکھایا جا رہا ہے تو کہیںر استے سے حراست میں لیا جا رہے ہے ۔ کہیں ان کی نقل و حرکت کو روک دیا گیا ہے تو کہیں ذرائع حمل و نقل کو مکمل بند کردیا گیا ہے ۔ کہیں سڑکوں پر چلنا مشکل کردیا گیا ہے تو کہیں احتجاج کے دوران دوڑا دوڑا کر پیٹا جا رہا ہے اور حراست میں لے کر پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کیا جا رہا ہے ۔ اس سارے عمل میں کہیں بھی سپریم کورٹ کی ہدایات کی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے ۔ عدالت کی جانب سے میٹرو اسٹیشنوں کو بند نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود 45 اسٹیشن بند رکھے گئے ۔ محض چند اسٹیشن کھلے رکھے گئے اور وہاں بھی عملا تحدیدات اور پابندیاں نافذ رہیں۔ دہلی آنے والی ٹرینوں کو روک دیا گیا ۔ دہلی آنے سے قبل مختلف اسٹیشنوں پر ٹرینیںروک کر پولیس کی جانب سے نوجوانوںاور طلباء کو حراست میں لیا گیا ۔ اس معاملے میں نہ احتجاجیوں کو دیکھا گیا اور نہ ہی وکلاء کو دیکھا گیا ۔ نہ طلباء کو دیکھا گیا اور نہ صحافیوں کو دیکھا گیا ۔ نہ خواتین و لڑکیوں کو دیکھا گیا اور نہ ہی معمر افراد تک کو بخشا گیا ۔ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ تو ایسا لگتا ہے کہ طئے شدہ حکمت عملی کے تحت طاقت کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ۔ ان کو حراست میں لینے کیلئے جو طریقہ کار مروج ہے اس کی پرواہ نہیں کی گئی ۔ کچھ مواقع پر لڑکیوں کو حراست میں لیتے وقت تک خواتین پولیس اہلکار تک موجود نہیں تھیں۔ کہیں طلباء اور نوجوانوں کو گھسیٹا گیا تو کہیں ان کو مارپیٹ کی گئی ۔ کہیں دوڑایا گیا تو کہیں لاٹھیاں چلائی گئیں۔ سارے معاملے میں دہلی پولیس نے صرف اور صرف طاقت کے استعمال کو ترجیح دی اور ایسا لگ تہا تھا کہ وہ پرامن احتجاجیوں سے نہیں بلکہ مجرمین سے نمٹ رہی ہے ۔ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش الگ سے کی گئی ۔ اس کے باوجود طلباء اور نوجوان نہ ڈرے ہیں اور نہ ہی خوفزدہ ہوئے ہیں۔
یہ وہی دہلی پولیس ہے جس نے اتنی ہی مستعدی اور سرگرمی عصمت ریزی کے واقعات کو روکنے کیلئے نہیں دکھائی ۔ جب کبھی کوئی افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کا عذر یہی ہوتا ہے کہ علاقہ کے سی سی ٹی وی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے ۔ دہلی کے کالج میں لڑکی کی عصمت ریزی ہوتی ہے تو کبھی پارک میں لڑکیوںکو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ کہیں راہ چلتی لڑکیوں کا قتل کردیا جاتا ہے تو کہیں سر عام حملے کردئے جاتے ہیں۔ ان سارے واقعات کی روک تھام میں دہلی پولیس بری طرح ناکام ہوتی ہے لیکن جب بات ووٹ کے تحفظ کی آتی ہے اور طلباء ‘ وکلا ‘ جہد کار اور سیول تنظیموں کے کارکن پرامن احتجاج کرنے پر اتر آتے ہیں تو حکومت کی ہدایت پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور مار پیٹ میںلڑکیوںکو تک نہیں بخشا جاتا ۔ کئی تو ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو کسی اور شہر کو سفر کرنے کیلئے ریلوے اسٹیشن یا ائرپورٹ جانے نکلے تھے ۔ یہ لوک اپنے سفری ٹکٹ وغیرہ دکھاتے رہے لیکن پولیس نے ان کی ایک نہیں سنی ۔ جو احتجاج کیا جا رہا ہے اس سے نہ کسی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اور نہ ہی احتجاج کرنے والے کوئی مجرمین تھے ۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کسی طرح کے صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور طلباء و جہد کاروں کے ساتھ مجرمین جیسا رویہ اختیار کرتے ہوئے صرف حراست میں لینے اور مار پیٹ کرنے کو ترجیح دی گئی ہے ۔
مرکزی حکومت ہو یا پھر دہلی پولیس ہو سبھی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ طاقت کے استعمال سے ملک کے نوجوانوں اور طلباء کو دھمکایا نہیںجاسکتا اور نہ ہی خوفزدہ کیا جاسکتا ہے ۔ جو احتجاج شروع ہوا ہے اسے طاقت کے زور سے کچلنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ پولیس کو تحمل سے کام کرتے ہوئے احتجاجیوں کے بھی جمہوری اور دستوری حقوق کا خیال رکھنا چاہئے ۔ حکومت کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ دبے کچلے افراد کی طرح ملک کے تعلیم یافتہ اور با شعور طلباء اور نوجوانوں کو قابو نہیںکر پائے گی ۔