طالبان کا نگراں حکومت بنانے کا فیصلہ،کابینہ کیلئے 12 ناموں پر غور

,

   

تمام قبائیلی قائدین کو حکومت سازی میں شامل کیا جائے گا۔ ہندوستان، طالبان کے خلاف فوج کشی کی غلطی نہیں کرے گا

کابل؍واشنگٹن۔ افغان طالبان نے نگراں حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیاجس کے لیے ابتدائی طور پر 12 ناموں پر غور کیا جارہا ہے جبکہ طالبان نے افغان عوام کو ایک ہفتہ میں سرکاری املاک اور ہتھیار جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے ، ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں کابل ائر پورٹ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ہلاک ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق طالبان شوریٰ کے رکن نے بتایا ہے کہ نگراں حکومت میں تمام قبائلی رہنمائوں کو شامل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ملا عبدالغنی برادر بھی کابل میں موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے ابتدائی طور پر 12ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ رکن طالبان شوریٰ کے مطابق عدلیہ، داخلی سلامتی، امور خارجہ اور دفاع کے لیے تقرریاں کی جائیں گی۔اس سلسلے میں طالبان آرمی چیف ملا یعقوب بھی قندھار سے کابل کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ رکن طالبان شوریٰ کے مطابق دیگر طالبان کمانڈروں کو بھی حکومت میں شامل کیا جائے گا۔ افغان پارلیمنٹ کے 18اراکین اور 7 صوبوں کے گورنرز نے طالبان کی حمایت کا اعلان کردیا۔حمایت کرنے والوں میں سابق صدر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی ،سابق سفیر عمر ذاخیلوال ،حامد گیلانی، اسحاق گیلانی، گل آغا شیرزئی، شیر محمد اخونزادہ اور حاجی دین محمد شامل ہیں۔احمدزئی قبائل کی قومی شوریٰ بھی طالبان کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہے۔دوسری جانب امریکہ نے افغان صوبہ ننگرہار میں ڈرون حملہ کر کے کابل ائرپورٹ حملے کے منصوبہ ساز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں نے افغان صوبے ننگر ہار میں ایک چلتی گاڑی پر حملہ کیا ہے، گاڑی میں 2افراد سوار تھے جن میں سے ایک ممکنہ طور پر کابل ائرپورٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ جبکہ دوسرا اس کا دوست تھا،جس کا تعلق دولت اسلامیہ خراسان سے بتایا گیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے کیپٹن بل اربن نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ حملے میں ہدف کا تعلق کابل ائرپورٹ پر حملوں سے تھا۔قبل ازیں افغان شہرجلال آباد پر امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،افغان امن عمل میں مثبت کردار پر پاکستان کے مشکور ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان طالبان کیخلاف فوج اتارنے کی غلطی نہیں کرے گا، ہندوستان جانتا ہے ہم نے امریکہ سمیت 40 ممالک کی فوج کو شکست دی ہے،ڈیورنڈ لائن کا معاملہ دیرینہ ہے، اس کو ملکر مناسب وقت پر حل کریں گے۔واضح رہے ا س سے قبل ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے شہریوں کو کابل میں سرکاری املاک، گاڑیاں، ہتھیار اور اسلحہ ایک ہفتہ میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ سرکاری اشیا ایک ہفتہ میں متعلقہ محکموں میں جمع کرا دی جائیں، تاکہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر پاکستانی طالبان، افغان طالبان کے سربراہ کو اپنا سربراہ مانتے ہیں تو انہیں ان کی بات بھی ماننا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک افغان طویل سرحد پر بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی تک ان کی رسائی نہیں، حکومت کی تشکیل کے بعد اس سے متعلق مکینزم بنائیں گے۔ اگر کسی کو پڑوسی ملک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پایا گیا تو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ نہ کریں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ٹی ٹی پی کا معاملہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے، ان کی جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق فیصلہ کرنا اور لائحہ عمل بنانا ہمارا نہیں پاکستان، پاکستانی علما اور دینی حلقوں کا کام ہے۔