طالبان کا پابندیاں ہٹانے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

   

اگست 2021ء میں کابل سے انخلاء کے بعد امریکی حکام کی طالبان سے پہلی بار تفصیلی بات چیت

دوحہ: قطر میں دو روزہ مذاکرات کے بعد پیر کو امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی حکام نے افغانستان کے طالبان کو بتایا ہے کہ واشنگٹن اقتصادی استحکام اور منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کیلئے تکنیکی بات چیت کیلئے تیار ہے۔ کابل انتظامیہ نے کہا کہ طالبان حکام نے طالبان رہنماؤں پر سے سفری اور دیگر پابندیاں اٹھانے اور بیرون ملک رکھے گئے افغان مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔اگست 2021 میں افغانستان کے اقتدارپر دوبارہ طالبان قابض ہوگئے ہیں۔ 20 سال کی لڑائی کے بعد امریکی زیرقیادت غیر ملکی افواج کا افراتفری میں انخلا ہوا تھا۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فریق نے انسانی حقوق کے بگڑتے ہوئے خدشات کو دہرایا اور طالبان سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم اور خواتین کی ملازمت پر عائد پابندیوں کو واپس لینے اور حراست میں لیے گئے امریکیوں کی رہائی کیلئے زور دیا ہے۔امریکی محکمہ نے افغانستان میں بہتر مالیاتی اعداد و شمار اور افراط زر میں کمی کے متعلق بھی مثبت بات کی۔ اسی طرح 2022 کی پابندیوں کے تحت افیون پوسٹ کی کاشت میں کمی کو سراہا گیا۔ امریکی فریق نے انسداد منشیات پر بات چیت جاری رکھنے کیلئے کھلے پن کا اظہار کیا اور کہا امریکی فریق بھی معاشی استحکام کے مسائل کے حوالے سے جلد ہی تکنیکی بات چیت کیلئے تیار ہے۔یاد رہے زیادہ تر طالبان رہنماؤں کو بیرون ملک سفر کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی اجازت درکار ہوتی ہے اور افغانستان کا بینکنگ سیکٹر طالبان انتظامیہ کے قبضے کے بعد سے پابندیوں کی وجہ سے مفلوج ہو چکا ہے۔ واضح رہے طالبان اپنے ملک کو ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کہتے ہیں۔افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبد القھار بلخی نے انگریزی زبان میں کہا کہ آئی ای اے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اعتماد سازی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیاں ختم کی جائیں اور مرکزی بینک کے ذخائر کو غیر منجمد کر دیا جائے تاکہ افغان غیر ملکی امداد پر انحصار نہ کرنے والی معیشت قائم کر سکیں۔طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 بلین ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے گئے تھے۔ ان میں سے نصف فنڈ اب سوئٹزرلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں ہیں۔ اگست 2021 میں کابل سے انخلا کے بعد امریکی حکام نے پہلی مرتبہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ دوحہ میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔ فریقین نے اقتصادی اور سکیورٹی امور کے علاوہ خواتین کے حقوق سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔امریکی اور طالبان حکام دونوں نے دوحہ میں ہونے والی دو روزہ بات چیت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے واشنگٹن میں جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ 30 اور 31 جولائی کو قطر میں دوحہ میں طالبان کے اعلیٰ نمائندوں اور سینیئر ٹیکنوکریٹ پروفیشنلز کے درمیان ملاقات ہوئی… تاکہ انتہائی اہم مفادات کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔‘‘دوسری طرف طالبان کے اعلیٰ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس میٹنگ کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ اور ان کی ٹیم کے ساتھ دوحہ میں ملاقات کی اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس میٹنگ میں افغان خواتین کیلئے خصوصی امریکی سفیر رینا امیری اور افغانستان میں امریکی مشن کی سربراہ کارین ڈیکر بھی موجود تھیں۔ بات چیت میں افغان مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی، جو اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ افغان عوام کے ان مطالبات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے کہ ان کے حقوق کا احترام کیا جائے اور افغان قوم کے مستقبل کی تشکیل میں ان کی آواز سنی جائے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ملر نے کہا کہ امریکی حکام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ ”افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال، بالخصوص خواتین، لڑکیوں اور کمزور طبقات سے متعلق پالیسیوں کو تبدیل کریں۔‘‘انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے حراستوں، میڈیا کے خلاف کارروائیوں اور مذہبی رسومات پر پابندیوں کے حوالے سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور ”افغان عوام کے ان کے حقوق کا احترام کیے جانے اور مستقبل کی تشکیل میں ان کی رائے کو شامل کرنے کے مطالبات‘‘ کی حمایت کی۔