کابل : خواتین کے عالمی دن کے موقع پر افغان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار مکمل طور پر خواتین کے پینل نے براہ راست نشریات کی، جس کی میزبان بھی خواتین تھیں اور مہمان بھی خواتین تھیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں خواتین پر کئی پابندیاں عائد کی گئیں، ایسے میں کئی خواتین صحافیوں اور اینکرس نے ملازمت چھوڑ دی یا پھر پس پردہ کام کرنے لگیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سروے رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ برس کے دوران 75 فیصد خواتین صحافیوں نے ملازمت چھوڑ دی تھی۔ امسال عالمی یوم خواتین کے موقع پر افغان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار خواتین نے براہ راست نشریات کے دوران اپنے حقوق پر کھل کر بات کی۔ افغان نشریاتی ادارے ٹولو نیوز نے براہ راست نشریات کے لئے مکمل طور پر خواتین پر مشتمل پینل کو دعوت دی، اس پروگرام میں مہمان بھی خواتین ہی تھی جنہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ پروگرام میں شامل 3 خواتین پینلسٹ اور 1 موڈیریٹر نے اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا، انہوں نے پروگرام کے دوران اسلام میں خواتین کا مقام اور ان کے حقوق کے موضوع پر کھل کر گفتگو کی۔