طالبہ پر تبدیلی مذہب کا دباؤ ، دو افراد کیخلاف مقدمہ

   

بڑوانی ۔15 اکتوبر ۔ ( یو این آئی ) مدھیہ پردیش پولیس نے نیٹ کی تیاری کرنے والی طالبہ کی شکایت پردو لوگوں کے خلاف مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ اور پوکسوایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔بڑوانی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دھیرج ببر نے بتایا کہ ایک لڑکی کی شکایت پر پلسود کے رنکو رشید اور امین کے خلاف مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ، پوکسو ایکٹ، اور تعاقب، فحش سلوک اور جان سے مارنے کی دھمکی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ دونوں ماضی میں بھی بالکل اسی طرح کے معاملے میں دو روز قبل گرفتار کرلیے گئے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ لڑکی فی الحال نیٹ کی تیاری کر رہی ہے ۔ جب وہ دسویں جماعت میں تھی تو دونوں ملزمان نے اس سے قبل اس کے انسٹاگرام آئی ڈی کے ذریعے اسے فحش پیغامات بھیجے تھے ۔ رنکو اِسے ہراساں کرتا رہا اور یہاں تک کہ اس سے شادی کے لیے دباؤ ڈالنے لگا۔ رنکو اور امین دو پہیوں پر اس کا پیچھا کرتے اور امین اس پر رنکو سے بات کرنے کیلئے دباؤ ڈالتا تھا۔ اس نے لڑکی کا فون نمبر معلوم کیا اور اسے بار بار فون بھی کیا۔ خوف کے سبب وہ اس سے بات بھی کرنے لگی تھی۔ اس کے بعد لڑکی دو سال کیلئے باہر چلی گئی اور جب وہ بارہویں پاس کرنے کے بعد علاقے میں واپس آئی تو رنکو نے پھر سے اسے پریشان کرنا شروع کردیا۔8 اکتوبر کو، اس نے اس پر اسلام قبول کرنے اور اس سے شادی کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔ اس کے بعد اس پتہ چلا کہ جسے وہ ہندو سمجھ رہی تھی، دراصل وہ مسلمان تھا۔ رنکو اور امین کو مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ اور پوکسو ایکٹ کے تحت ایک اور کیس میں گرفتار کیا گیا۔