حیدرآباد۔/5فروری، ( سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے طبقاتی سروے اور ایس سی زمرہ بندی کے سلسلہ میں حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے طبقاتی سروے کی مخالفت میں بعض بی سی قائدین کے بیانات کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ رکن کونسل تین مار ملنا کے بیانات پر صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور تادیبی کارروائی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائدین کو حکومت کے خلاف بیان بازی کے ذریعہ اپوزیشن کو مستحکم کرنے سے باز آنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے نظریہ کے مطابق تلنگانہ میں طبقاتی سروے کا انعقاد عمل میں آیا اور بی سی طبقات کی آبادی 46 فیصد درج ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے فلاحی اسکیمات میں حصہ داری کیلئے سروے منعقد کیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے کانگریس پارٹی کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ نئی دہلی کے الیکشن میں سیاسی فائدہ کیلئے نریندر مودی نے فنڈز کا اعلان کیا ہے جبکہ تشہیری اسکیمات کیلئے وہ فنڈز کی مخالفت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کیلئے مرکزی حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیئے۔ 1
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے طبقاتی سروے اور ایس سی زمرہ بندی کا فیصلہ کرتے ہوئے پسماندہ طبقات سے اپنی ہمدردی کا ثبوت دیا ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ گذشتہ 76 برسوں میں پہلی مرتبہ کسی ریاست نے ذات پات پر مبنی مردم شماری انجام دی ہے۔1